۳۴۸۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَصَبْغُ بْنُ الْفَرْجِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ سَمِعَ رَجُلًا یُلَبِّیْ یَقُوْلُ (لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ لَبَّیْکَ) قَالَ سَعْدٌ : مَا ہٰکَذَا کُنَّا نُلَبِّیْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَھٰذَا سَعْدٌ قَدْ کَرِہَ الزِّیَادَۃَ عَلٰی مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَّمَہُمْ مِنَ التَّلْبِیَۃِ فَبِھٰذَا نَأْخُذُ۔
٣٤٨٢: عبداللہ بن ابی سلمہ نے عامر بن سعد عن ابیہ سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو تلبیہ کے یہ الفاظ کہتے سنا : لبیکَ ذا المعارج لبیک ‘ تو سعد (رض) نے اس کو فرمایا ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اس طرح تلبیہ نہ کہتے تھے۔ حضرت سعد (رض) ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سکھائے ہوتے تلبیہ پر اضافے کو ناپسند فرمایا ۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
حاصل روایات : حضرت سعد (رض) کا اس کی اس حرکت کو ناپسند کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس تلبیہ پر اضافہ درست نہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا ہے۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
اس باب میں امام طحاوی (رح) نے قول ثانی کو راجح قرار دیا اور یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے اور احتیاط اسی میں ہے۔