hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3482

.

الطحاوي

3482
Al Tahawi
۳۴۸۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : سَمِعْتُ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَعَلَیْہِ جُبَّۃُ صُوْفٍ وَہُوَ مُصْفِرٌ لِحْیَتَہٗ وَرَأْسَہٗ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ قَدْ أَحْرَمْتُ وَأَنَا کَمَا تَرٰی فَقَالَ (انْزِعْ عَنْکَ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ الصُّفْرَۃَ وَمَا کُنْتُ صَانِعًا فِیْ حَجِّک فَاصْنَعْہُ فِیْ عُمْرَتِکَ) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَکَرِہُوْا بِہِ التَّطَیُّبَ عِنْدَ الْاِحْرَامِ وَقَالُوْا بِمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٣٤٨٣: عطاء نے صفوان بن یعلی بن امیہ سے انھوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اس وقت آیا جب آپ جعرانہ میں تھے اس نے اونی جبہ پہن رکھا تھا اور اس کی داڑھی اور سر پر زرد رنگ تھا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں احرام باندھنا چاہتا ہوں اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا جبہ اتارو اور زردی کو دھو ڈالو اور جو حج میں کیا جاتا ہے وہی عمرہ میں کرو یعنی احرام باندھ کر طواف و سعی۔ بعض علماء نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے احرام کے وقت خوشبو کو مکروہ قرار دیا ہے اور انھوں نے حضرت عمر اور عثمان (رض) کی روایات کو اختیار کرتے ہیں۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٧‘ مسلم فی الحج ٩؍١٠‘ نسائی فی المناسک باب ٤٤‘ مسند احمد ٤؍٢٢٤۔
احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے میں تو کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ اختلاف اس میں ہے کہ ایسی خوشبو جس کا رنگ و اثر باقی رہے وہ درست ہے یا نہیں امام مالک ‘ عطاء رحمہم اللہ کے ہاں احرام کے وقت ایسی خوشبو کا استعمال جس کا رنگ بعد میں باقی رہے اس کا استعمال مکروہ ہے۔
نمبر 2: ائمہ ثلاثہ اور ابن عباس و عبداللہ بن زبیر ‘ امّ المؤمنین عائشہ ] کے ہاں مطلقاً خوشبو لگانا درست ہے کچھ حرج نہیں۔