۳۵۰۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِیْ کَانَ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَاجَۃٍ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ فَقَالَ : اذْہَبْ فَاغْتَسِلْ فَذَہَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ اذْہَبْ فَاغْتَسِلْ فَذَہَبْتُ فَأَخَذْتُ شَیْئًا فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ بِہٖ وَضَرَہٗ) .فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ کُلِّہَا عَنِ التَّزَعْفُرِ فَإِنَّمَا أَمَرَ الرَّجُلَ الَّذِیْ أَمَرَہٗ بِغَسْلِ طِیْبِہٖ الَّذِیْ کَانَ عَلَیْہِ فِیْ حَدِیْثِ یَعْلَی لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ مِنْ طِیْبِ الرِّجَالِ وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَیْ حُکْمِ مَنْ أَرَادَ الْاِحْرَامَ ہَلْ لَہٗ أَنْ یَتَطَیَّبَ بِطِیْبٍ یَبْقَیْ عَلَیْہِ بَعْدَ الْاِحْرَامِ أَمْ لَا ؟ وَأَمَّا مَا رَوَوْہُ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ذٰلِکَ فَإِنَّہٗ قَدْ خَالَفَہُمَا فِیْ ذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا۔
٣٥٠٦: اسحق بن سوید نے ام حبیبہ (رض) سے اس شخص کے متعلق نقل کیا ہے جو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک غرض سے اس حالت میں آیا کہ خلوق لگائے ہوئے تھا آپ نے اسے فرمایا جاؤ اور اسے دھوؤ۔ چنانچہ وہ گیا اور اسے دھو کر واپس آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اور اسے دھو ڈالو۔ وہ گیا اور اس کی چکناہٹ اور میل کچیل کا پیچھا کرنے لگا۔ ان تمام روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو زعفران کے لگانے کی ممانعت فرمائی ‘ حضرت یعلی (رض) کی روایت کے مطابق آپ نے ایک آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مردوں کی خوشبو نہ تھی۔ ان کی اس روایت میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ جو شخص احرام باندھنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اس قسم کی خوشبو جس کا اثر باقی رہ سکتا ہے لگا سکتا ہے یا نہیں ۔ رہی وہ روایات جن کو انھوں نے حضرت عمرو عثمان (رض) سے نقل کیا ہے۔ تو حضرت ابن عباس (رض) نے اس سلسلہ میں ان سے اختلاف کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الترجل باب ٨۔
حاصل روایات : ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زعفران میں مرد کو لت پت ہونے سے منع فرمایا اور یعلیٰ والی روایت میں ممانعت کی وجہ مردوں کے لیے اس کے استعمال کا درست نہ ہونا ہے یہ وجہ نہیں کہ احرام باندھتے ہوئے احرام میں لگا سکتا ہے یا نہیں لگا سکتا خواہ اس کا اثر اس کے بعد باقی رہنے والا ہو یا نہ رہنے والا ہو پس یعلیٰ والی روایت فریق اوّل کا مستدل بننے کے مناسب نہیں ہے اب روایات عمرو عثمان (رض) کی روایات تو وہ عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت کے خلاف ہیں جیسا کہ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے۔