hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3506

.

الطحاوي

3506
Al Tahawi
۳۵۰۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : ثَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ قَالَ : انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَرَافَقَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ أَبِی الْعَاصِ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْاِحْرَامِ قَالَ : (اغْسِلُوْا رُئُ وْسَکُمْ بِھٰذَا الْخِطْمِیِّ الْأَبْیَضِ وَلَا یَمَسَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ غَیْرَہٗ) فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِی مِنْ ذٰلِکَ شَیْء ٌ .فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فَأَمَّا ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ : " مَا أُحِبُّہُ " .وَأَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأُضَمِّخُ بِہٖ رَأْسِیْ ثُمَّ أُحِبُّ بَقَائَ ہُ فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ خَالَفَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَابْنَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ فِیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدُلُّ عَلٰی اِبَاحَتِہٖ۔
٣٥٠٧: عیینہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں حج کو گیا میرے ساتھ عثمان بن ابی العاص (رض) تھے جب احرام کا وقت آیا تو وہ کہنے لگے تم لوگ اپنے سروں کو سفید خطمی سے دھو لو اور اس کے علاوہ تم کسی چیز کو مت چھونا۔ مجھے اس کے متعلق اشکال ہوا چنانچہ میں مکہ پہنچا تو میں نے ابن عمر ‘ ابن عباس ] سے پوچھا ابن عمر کا جواب یہ تھا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا باقی ابن عباس (رض) کہنے لگے میں تو اس کو خوب سر پر ملوں گا پھر میں چاہوں گا کہ یہ میرے سر پر باقی رہے۔ تو یہ ابن عباس (رض) ہیں جنہوں نے حضرت عمر ‘ عثمان اور ابن عمر اور عثمان بن ابی العاص (رض) کی مخالفت کی ہے اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی اباحت و جواز پر روایات وارد ہیں۔
حاصل روایات : اس میں ابن عباس (رض) نے ابن عمر ‘ عمر ‘ عثمان ‘ عثمان بن ابی العاص ] کی مخالفت کی ہے اور ان کی یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل کے موافق ہے۔
روایات ملاحظہ ہوں۔