۳۵۹۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الرَّبِیْعِ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوَ الْأَحْوَصِ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ : قَالَ الصُّبَیّ بْنُ مَعْبَدٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ فَقَالَ الَّذِیْنَ أَنْکَرُوا الْقِرَانَ‘ إِنَّمَا قَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہُدِیْتُ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ عَلَی الدُّعَائِ مِنْہُ لَہٗ لَا عَلَی تَصْوِیْبِہِ إِیَّاہُ فِیْ فِعْلِہٖ إِیَّاہُ فِیْ فِعْلِہٖ فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ‘ مِمَّا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ مِنْ عُمَرَ عَلٰی جِہَۃِ الدُّعَائِ ۔
٣٥٩٨: ابوالاحوص نے اعمش سے انھوں نے ابو وائل سے وہ کہتے ہیں کہ صبی بن معبد نے کہا پھر اسی طرح بیان کیا۔ پس وہ لوگ جنہوں نے حج قران کا انکار کیا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کا قول : ” ھدیت ِسنۃ نبیک “ اس سے اس کے لیے دعا مقصود ہے فعل کو درست قرار دینا نہیں ۔ ان کے خلاف یہ دلیل موجود ہے کہ یہ بطور دعا نہیں (بلکہ تصویب فعل مراد تھی) روایت ذیل میں ہے۔
حدیث لِسُنَّۃِ نَبِیِّک کا معنی :
اس جملہ کا معنی تمتع و افراد کو افضل کہنے والوں نے یہ لے لیا کہ یہ دعائیہ جملہ ہے کہ تم نے اچھا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تمہیں سنت نبوی کی ہدایت فرمائے مگر زیادہ درست یہ ہے کہ یہ جملہ آپ نے ان کے فعل کی تصدیق و تحسین کے لیے فرمایا۔
اس کی دلیل یہ روایت ہے۔