hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3599

.

الطحاوي

3599
Al Tahawi
۳۵۹۹ : أَنَّ فَہْدًا حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی الصُّبَیّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ (کُنْتُ حَدِیْثَ عَہْدٍ بِنَصْرَانِیَّۃٍ فَلَمَّا أَسْلَمْتُ لَمْ آلُ أَنْ أَجْتَہِدَ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ وَحَجَّۃٍ جَمِیْعًا فَمَرَرْتُ بِالْعُذَیْبِ بِسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ‘ وَزَیْدِ بْنِ صُوحَانَ‘ فَسَمِعَانِیْ وَأَنَا أُہِلُّ بِہِمَا جَمِیْعًا فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہٖ : أَیُّہُمَا جَمِیْعًا ؟ وَقَالَ الْآخَرُ دَعْہُ فَہُوَ أَضَلُّ مِنْ بَعِیْرِہِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ وَکَانَ بَعِیْرِیْ عَلٰی عُنُقِی فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَصَصْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ إِنَّہُمَا لَمْ یَقُوْلَا شَیْئًا ہُدِیْتُ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ) .
٣٥٩٩: شقیق نے صبی بن معبد سے نقل کیا کہ میں نیا نیا مسلمان ہوا اور نصرانیت کو چھوڑا۔ میں نے دین میں کوشش سے کوئی کمی نہ چھوڑی پس میں نے حج وعمرہ کا اکٹھا احرام باندھا۔ میں مقام عذیب میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا انھوں نے مجھ سے سنا کہ میں حج وعمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہتا ہوں۔ تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ ان دونوں میں کون ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے والا ہے ؟ دوسرے نے کہا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو یہ تو اپنے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے۔ صبی کہتے ہیں یہ بات سن کر میں چل دیا۔ میرا اونٹ بڑا تیز رفتار تھا چنانچہ میں مدینہ منورہ پہنچا اور عمر بن خطاب (رض) سے ملا اور ان سے سارا ماجرا کہہ سنایا تو انھوں نے فرمایا۔ ان دونوں نے کسی کام کی بات نہیں کہی تو نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو پا لیا ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی المناسک باب ٣٨۔