hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3600

.

الطحاوي

3600
Al Tahawi
۳۶۰۰ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ‘ قَالَ : أَنَا وَکِیْعٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ‘ عَنْ شَقِیْقٍ‘ عَنِ الصُّبَیّ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ (أَہْلَلْتُ بِہِمَا جَمِیْعًا فَمَرَرْتُ بِسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَزَیْدِ بْنِ صُوحَانَ‘ فَعَابَا ذٰلِکَ عَلَیَّ) فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ (إِنَّہُمَا لَمْ یَقُوْلَا شَیْئًا ہُدِیْتُ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) فَدَلَّ قَوْلُہٗ (ہُدِیْتُ لِسُنَّۃِ نَبِیِّک) بَعْدَ قَوْلِہٖ (إِنَّہُمَا لَمْ یَقُوْلَا شَیْئًا) أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ مِنْہُ عَلَی التَّصْوِیْبِ مِنْہُ‘ لَا عَلَی الدُّعَائِ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا
٣٦٠٠: شقیق نے صبی بن معبد سے نقل کیا کہ میں نے حج وعمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو میرا گزر سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے ہوا ان دونوں نے اس سلسلے میں مجھے قصور وار گردانا جب میں عمر (رض) کی خدمت میں آیا اور ان کو میں نے سارا واقعہ سنایا تو انھوں نے فرمایا ان دونوں نے غلط بات کہی ہے تم نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو پا لیا ہے۔ تو آپ کے ھدیت لسنۃ نبیک “ سے جو کہ آپ نے (انھما لم یقولا شیًٔا) بعد فرمایا یہ درحقیقت ان کے فعل کی تصویب ولصدیق تھی دعا مقصود نہ تھی ۔ چنانچہ حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت عمر (رض) سے جو روایت نقل کی ہے وہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ ذیل میں روایات ملاحظہ ہوں۔
حاصل روایات : انہما لا یقولا شیئًا کے بعد ہدیت لسنۃ نبیک ان کے قول کی تصدیق ہے نہ کہ کلمہ دعائیہ جیسا کہ دوسرے فریق نے سمجھا۔