hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3606

.

الطحاوي

3606
Al Tahawi
۳۶۰۶ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ سَلْمَۃَ‘ عَنْ طَاوٗسٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ أَنْکَرَ أَنْ یَّکُوْنَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَہٰی عَنِ التَّمَتُّعِ‘ وَذَکَرَ عَنْہُ أَنَّہٗ اِسْتَحَبَّ الْقِرَانَ‘ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْمُتْعَۃَ الَّتِیْ تَوَعَّدَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَنْ فَعَلَہَا بِالْعُقُوْبَۃِ‘ ہِیَ الْمُتْعَۃُ الْأُخْرَی فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ أَمَرَ بِإِفْرَادِ الْحَجِّ‘ وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٦٠٦: طاؤس نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ عمر (رض) نے فرمایا پھر انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس (رض) ہیں جو حضرت عمر (رض) کے متعلق تمتع کی ممانعت کا انکار فرماتے ہیں اور ان کے متعلق ذکر کرتے ہیں کہ انھوں نے قران کو ناپسند فرمایا ۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس تمتع کے متعلق عمر (رض) نے لوگوں کو دھمکا یا اور ڈرایا وہ دوسرا تمتع ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ آپ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے حج افراد کیا اور یہ روایت پیش کرے۔
حاصل روایات : یہ ابن عباس (رض) ہیں جنہوں نے فصل اول کی روایت میں متعہ کی نفی کرنے پر عمر (رض) اپر تعجب کیا مگر اس روایت میں وہی ان سے قران یا تمتع کو مستحب قرار دے رہے ہیں معلوم ہوا کہ جس متعہ سے عمر (رض) نے منع فرمایا اور کرنے والوں کو سزا کی دھمکی دی وہ تمتع وہ نہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ بلکہ وہ اور چیز ہے۔ جس کو منسوخ کردیا گیا۔ لفظی تشابہ سے بعض لوگوں نے وہی سمجھ لیا۔
اشکال ثانی :
حضرت عمر (رض) کی طرف حج تمتع کے استحباب کی نسبت کس طرح درست ہے جبکہ عمر (رض) تو لوگوں کو حج افراد کی ترغیب و تحریص دلاتے تھے جیسا کہ یہ روایات ثابت کر رہی ہیں۔