hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3607

.

الطحاوي

3607
Al Tahawi
۳۶۰۷ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلٰی‘ قَالَ : سَمِعْتُ سُوَیْدًا یَقُوْلُ : سَمِعْت عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ (أَفْرِدُوْا بِالْحَجِّ) قِیْلَ لَہٗ : لَیْسَ ذٰلِکَ - عِنْدَنَا ۔ عَلٰی کَرَاہَتِہٖ‘ لِمَا سِوَی الْاِفْرَادِ مِنَ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ‘ وَلٰکِنَّہٗ لِاِرَادَتِہٖ مَعْنًی آخَرَ سِوٰی ذٰلِکَ‘ قَدْ بَیَّنَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٣٦٠٧: ابراہیم بن عبدالاعلی کہتے ہیں کہ میں نے سوید سے سنا وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے عمر (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ حج افراد کیا کرو۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا ۔ ہمارے ہاں اس کا مطلب افراد کے علاوہ یعنی تمتع و قران کو ناپسند کرنا نہیں بلکہ آپ نے ایک دوسرا مفہوم مراد لیا ہے جس کو ابن عمر (رض) اس طرح بیان کرتے ہیں۔
حاصل کلام : حج افراد کا حکم دینا اس بنیاد پر ہرگز نہ تھا کہ وہ قران و تمتع کو ناپسند قرار دیتے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے لوگ سال کے بقیہ ایام میں بھی بیت اللہ میں آئیں اور وہاں لوگوں کی ہر زمانہ میں کثرت رہے جیسا کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی روایات میں یہ بات بیان کی ہے۔