hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3617

.

الطحاوي

3617
Al Tahawi
۳۶۱۷ : حَدَّثَنَا عَلَیَّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا خَلَّادُ بْنُ یَحْیَی‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ‘ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ حُرَیْثُ بْنُ سُلَیْمٍ الْعُذْرِیُّ‘ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ لَبّٰی بِہِمَا جَمِیْعًا‘ فَنَہَاہُ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَمَا إِنَّک قَدْ رَأَیْتُ فَھٰذَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَخْبَرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ النَّہْیِ عَنْ قِرَانِ الْعُمْرَۃِ وَالْحَجِّ وَفَعَلَ فِیْ ذٰلِکَ خِلَافِ مَا أَمَرَ بِہِ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَنْکَرَ عَلٰی عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا أَمَرَ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ‘ فَدَلَّ ھٰذَا مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ عِنْدَہٗ تَفْضِیْلُ الْقِرَانِ عَلَی الْاِفْرَادِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَلَوْلَا ذٰلِکَ‘ لَمَا أَنْکَرَ عَلٰی عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا رَأَی‘ وَلَا فَضَّلَ رَأْیَہٗ عَلٰی رَأٰیِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ اِذْ کَانَا کِلَاہُمَا‘ إِنَّمَا أَمَرَا بِمَا أُمِرَا بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ عَنْ شَیْئٍ وَاحِدٍ‘ وَہُوَ الرَّأْیُ وَلٰـکِنْ خِلَافُہٗ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ دَلِیْلٌ - عِنْدَنَا - عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ عَلِمَ فَضْلَ الْقِرَانِ عَلٰی مَا سِوَاہُ‘ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَرَنَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ
٣٦١٧: حریث بن سلیم الغدری نے علی (رض) سے نقل کیا کہ انھوں نے حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھا پڑھا تو ان کو عثمان (رض) نے اس سے منع کیا اس پر علی (رض) نے فرمایا سنو ! تم نے خود یہ دیکھا ہے۔ یہ حضرت علی (رض) ہیں جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حج وعمرہ کرنے کی ممانعت کے خلاف جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر رہے ہیں اور انھوں نے حضرت عثمان (رض) کے حکم کے خلاف کیا اور جو حضرت عثمان (رض) نے حکم دیا انھوں نے اس کا انکار کیا ۔ اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ ان کے ہاں قران افراد سے افضل تھا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح ثابت تھا۔ اگر اس طرح نہ ہوتا تو وہ حضرت عثمان (رض) کی رائے کا انکار نہ کرتے اور نہ اپنی رائے کو عثمان (رض) کی رائے سے افضل قرار دیتے ۔ اس لیے کہ دونوں نے جو کچھ حکم دیا تھا وہ اپنی رائے اور راجتھاد سے تھا مگر ان کا اس سلسلہ میں حضرت عثمان (رض) کی رائے کے خلاف کرنا ہمارے ہاں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کو بقیہ دو اقسام سے افضل گردانتے تھے اور ان کے ہاں یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھا اور حضرت ابن عباس (رض) نے بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوادع میں قرآن کیا تھا۔ روایت ذیل میں ہے۔
حاصل روایات : اس روایت میں حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان (رض) کی ممانعت کے خلاف خبر دی اور اس طرح کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علی (رض) قران کو افراد سے افضل سمجھتے تھے اور یہ بات ان کے ہاں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھی اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ عثمان (رض) کی رائے کا انکار کر کے اپنی رائے کو قطعاً فضیلت نہ دیتے کیونکہ دونوں کو اس سلسلہ میں اجتہاد کی اجازت تھی ان کا اپنے اجتہاد کو اجتہاد عثمان پر ترجیح دینا اس بات کی دلیل تھی کہ وہ قران کی فضیلت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت جانتے تھے۔