hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3618

.

الطحاوي

3618
Al Tahawi
۳۶۱۸ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی‘ قَالَ : ثَنَا دَاوٗدَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ‘ عَنْ عِکْرَمَۃَ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ (اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرَ‘ عُمْرَۃَ الْجُحْفَۃِ‘ وَعُمْرَتَہُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ‘ وَعُمْرَتَہُ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ‘ وَعُمْرَتَہٗ مَعَ حَجَّتِہٖ‘ وَحَجَّ حَجَّۃً وَاحِدَۃً) فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ‘ فَکَیْفَ تَقْبَلُوْنَ ھٰذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَقَدْ رَوَیْتُمْ عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟) قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ فِیْ بَدْئِ أَمْرِہِ بِعُمْرَۃٍ‘ فَمَضٰی فِیْہَا مُتَمَتِّعًا بِہَا‘ ثُمَّ أَحْرَمَ بِحَجَّۃٍ قَبْلَ طَوَافِہٖ‘ فَکَانَ فِیْ بَدْئِ أَمْرِہِ مُتَمَتِّعًا‘ وَفِیْ آخِرِہٖ قَارِنًا فَأَخْبَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ بِتَمَتُّعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لِیَنْفِیَ قَوْلَ مَنْ کَرِہَ الْمُتْعَۃَ‘ وَأَخْبَرَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ الثَّانِیْ بِقِرَانِہِ عَلٰی مَا کَانَ صَارَ إِلَیْہِ أَمْرُہٗ بَعْدَ إِحْرَامِہٖ بِالْحَجَّۃِ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ‘ مُتَمَتِّعًا بَعْدَ إِحْرَامِہٖ بِالْعُمْرَۃِ‘ إِلٰی أَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجَّۃِ‘ فَصَارَ بِذٰلِکَ قَارِنًا۔
٣٦١٨: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار عمرے کئے نمبر ایک عمرۃ جحفہ نمبر ٢ عمرۃ القضاۃ نمبر ٣ عمرہ جعرانہ نمبر ٤ حجۃ الوداع کا عمرہ جو حج کے ساتھ کیا اور حج ایک ہی فرمایا یعنی حجۃ الوداع۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ابن عباس (رض) کی یہ روایت تم نے کس طرح قبول کرلی جبکہ تم فصل اول میں ان سے یہ نقل کرچکے ہو (ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمتع) کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمتع کیا ۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ کہنا درست ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حج کی ابتداء میں عمرہ کا احرام باندھا اور اس میں متمتع کی حیثیت سے چلتے رہے پھر آپ نے طواف سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا تو آپ اپنے معاملے کی ابتداء میں متمتع تھے اور حج کے سلسلہ میں اختتام کے اعتبار سے آپ قارن تھے ۔ پس ابن عباس (رض) نے اپنی فصل اول والی روایت میں یہ خبر دی کہ آپ نے تمتع کیا تاکہ ان لوگوں کے قول کی نفی ہوجائے جو تمتع کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس دوسری روایت میں اس بات کی اطلاع دی کہ آپ نے قران کیا اس لیے کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد آپ قارن بن گئے تھے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء امر میں احرام عمرہ کے بعد متمتع تھے اور جب آپنے حج کا احرام باندھا تو آپ اس سے قارن بن گئے۔
تخریج : بخاری فی الغازی باب ٣٥‘ مسلم فی الحج ٢١٧؍٢٢٠‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٧٩‘ ترمذی فی الحج باب ٦‘ ٧‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٥٠‘ مسند احمد ١؍٢٤٦‘ ٣٢١۔
ایک اشکال :
ابن عباس (رض) کی یہ روایت کس طرح قران پر محمول کرتے ہو جبکہ تم نے فصل اول میں ابن عباس (رض) سے تمتع کی روایت نقل کی ہے۔
نوٹ :
فصل اول کی روایات میں ابتداء کا تذکرہ ہے جبکہ آپ نے احرام باندھا اور اسی حالت پر چلتے رہے پھر آپ نے طواف سے قبل حج کا احرام باندھ لیا تو آپ ابتداء میں متمتع تھے اور انتہا میں قارن تھے گویا روایت اول میں تمتع کی خبر دے کر ابن عباس (رض) نے ان لوگوں کی بات کی نفی کی جو تمتع کو ناپسند کرتے تھے اور اس روایت ثانیہ سے آپ کے قران کی خبر دی کہ احرام کی یہ اختتامی حالت تھی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع میں ابتدائً احرام عمرہ کے بعد متمتع تھے پھر جب حج کا احرام باندھ لیا تو آپ قارن بن گئے۔