hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3626

.

الطحاوي

3626
Al Tahawi
۳۶۲۶ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ ہُوَ ابْنُ نَصْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ ہَارُوْنَ‘ قَالَ : أَنَا حُمَیْدٌ‘ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ وَزَادَ (فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہٗ ہََدْیٌ فَلْیُحْلِلْ وَکَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَدْیٌ فَلَمْ یَحِلَّ)
٣٦٢٦: یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ہمیں حمید نے خبر دی پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ) تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہدی تھی اس لیے وہ حلال نہیں ہوئے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے حضرت انس (رض) کی اس بات کا انکار کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج وعمرہ کا اکٹھا احرام باندھا “ ابن عمر (رض) کے ہاں یہی تھا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کا احرام باندھا پھر بعد میں اس کو عمرہ بنا لیا اور اس کے ساتھ حج کو ملایا پس آپ اس وقت قارن بن گئے تو ان کے نزدیک ابتداء احرام میں آپ مفرد تھے۔ پھر دوسری طرف حضرت انس (رض) سے متواتر روایات ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کا احرام اکٹھا باندھا۔