۳۶۲۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ حُمَیْدٍ‘ عَنْ بَکْرٍ قَالَ : أَخْبَرْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بِقَوْلِ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ (نَسِیَ أَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ بَکْرٌ لِأَنَسٍ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ نَسِیَ فَقَالَ أَنْ یَعُدُّوْنَا إِلَّا صِبْیَانًا‘ بَلْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجَّۃٍ مَعًا) أَفَلاَ تَرٰی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا إِنَّمَا أَنْکَرَ عَلٰی أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَوْلَہُ (إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہَلَّ بِہِمَا جَمِیْعًا ؟) وَإِنَّمَا کَانَ الْأَمْرُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہَلَّ بِحَجَّۃٍ‘ ثُمَّ صَیَّرَہَا عُمْرَۃً بَعْدَ ذٰلِکَ‘ وَأَضَافَ إِلَیْہَا حَجَّۃً‘ فَصَارَ حِیْنَئِذٍ قَارِنًا فَأَمَّا فِیْ بَدْئِ إِحْرَامِہٖ، فَإِنَّہٗ کَانَ- عِنْدَہُ- مُفْرِدًا‘ ثُمَّ قَدْ تَوَاتَرَتْ الرِّوَایَاتُ بَعْدَ ذٰلِکَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِدُخُوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِمَا جَمِیْعًا
٣٦٢٧: حمید نے بکر مزنی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو انس (رض) کے قول کی اطلاع دی تو انھوں نے کہا کہ انس (رض) کو بھول لگی ہے۔ بکر نے واپس لوٹ کر انس (رض) کو بتلایا کہ ابن عمر (رض) تو یہ کہتے ہیں کہ انس بھول گئے تو انس کہنے لگے وہ بچے ہونے کی وجہ سے ہم پر تجاوز کرتے ہیں بلکہ میں نے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود فرماتے سنا ” لبیک بعمرۃ و حجۃ معا “۔
تخریج : مسلم فی الحج ١٨٥۔
حاصل روایات : ابن عمر (رض) نے انس (رض) کی اس بات کا انکار کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کا اکٹھا احرام باندھا۔ ابن عمر (رض) کے ہاں بات یہ تھی کہ پہلے آپ مفرد تھے پھر اس کو عمرہ بنا لیا اور اس کے ساتھ حج کو ملا لیا تو آپ اس وقت قارن بن گئے ابن عمر (رض) کے نزدیک شروع میں آپ حج افراد والے تھے۔ حضرت انس (رض) کی بہت سی روایات اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کا احرام باندھا ۔