۳۶۴۳ : فَذَکَرَ مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَنَضْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا الْخَصِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ‘ قَالَ : ثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ‘ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْدٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَہُوَ یَخْطُبُ یَقُوْلُ (یَا أَیُّہَا النَّاسُ‘ أَلَا إِنَّہُ وَاللّٰہِ مَا التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ‘ کَمَا تَصْنَعُوْنَ‘ وَلٰـکِنَّ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ أَنْ یَخْرُجَ الرَّجُلُ حَاجًّا‘ فَیَحْبِسَہٗ عَدُوٌّ‘ أَوْ مَرَضٌ‘ أَوْ أَمْرٌ یُعْذَرُ بِہٖ حَتّٰی تَذْہَبَ أَیَّامُ الْحَجِّ فَیَأْتِیَ الْبَیْتَ فَیَطُوْفَ بِہِ سَبْعًا‘ وَیَسْعَیْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ وَیَتَمَتَّعَ بِحِلِّہِ إِلَی الْعَامِ الْمُقْبِلِ‘ فَیَحُجَّ وَیُہْدِیَ)
٣٦٤٣: اسحاق بن سوید نقل کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو خطبہ دیتے سنا وہ کہہ رہے تھے اے لوگو ! تمتع وہ نہیں جو تم عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر کرتے ہو بلکہ تمتع بالعمرہ الی الحج کا مصداق یہ ہے کہ آدمی حج کا احرام باندھ کر روانہ ہو پھر اسے دشمن یا مرض یا عذر روک دے تآنکہ ایام حج گزر جائیں۔ پھر وہ آزاد ہو کر بیت اللہ میں آئے اور اس کا طواف و سعی کر کے حلال ہوجائے اور آئندہ سال وہ حج بھی کرے اور دم احصار کی ہدی بھی روانہ کرے۔