۳۶۴۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ قَالَ : أَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَیْدٍ‘ فَذَکَرَ نَحْوَہٗ قَالَ فَھٰذَا تَأْوِیْلُ ھٰذِہِ الْآیَۃِ قِیْلَ لَہُمْ : لَئِنْ وَجَبَ أَنْ یَّکُوْنَ تَأْوِیْلُہَا کَذٰلِکَ لِقَوْلِ ابْنِ الزُّبَیْرِ‘ فَإِنَّ تَأْوِیْلَہَا أَحْرٰی أَنْ لَا یَکُوْنَ کَذٰلِکَ‘ لِمَا رَوَیْنَاہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَعَنْ أَصْحَابِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ‘ مِثْلِ عُمَرَ‘ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَمَنْ ذَکَرْنَا مَعَہُمَا فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ھٰذَا الْبَابِ۔
٣٦٤٤: حماد نے اسحاق بن سویف سے روایت نقل کی انھوں نے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ جب اس آیت کا مصداق اس قسم کا تمتع ہے تو اس کو تمتع حج بالعمرہ کی دلیل بنا کر پیش کرنا درست نہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس آیت کی تفسیر یہ ہے تو ان کو جواب میں عرض کیا جائے گا کہ اگر اس آیت کی یہ تفسیر ابن زبیر (رض) کے قول کے مطابق لازم ہے تو جناب وہ روایات جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائیں اور آپ کے صحابہ کرام (رض) نے روایت کی ہیں جیسے حضرت عمر (رض) اور دیگر اصحاب تو ان روایات کی روشنی میں اس تاویل کا نہ ہونا زیادہ مناسب ہے۔ ذیل کی روایات ملاحظہ ہیں۔
نوٹ :
حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی طرف منسوب توجیہ اکابر صحابہ کی توجیہ کے خلاف ہے اور خود سیاق آیت کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ہم عنقریب ثابت کریں گے۔
روایات صحابہ کرام ملاحظہ ہوں۔