۳۷۰۰ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُوْسٰی بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا حَفْصٌ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ (أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْحَیَّۃِ‘ وَنَحْنُ بِمِنًی) فَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ سَائِرَ الْہَوَامِّ‘ مُبَاحٌ قَتْلُہٗ فِی الْاِحْرَامِ وَالْحَرَمِ وَجَمِیْعُ مَا صَحَّحْنَا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ‘ ہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی‘ غَیْرَ الذِّئْبِ فَإِنَّہُمْ جَعَلُوْہُ فِیْ ذٰلِکَ کَالْکَلْبِ سَوَائً .
٣٧٠٠: اسود نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سانپ کو قتل کا حکم دیا جبکہ ہم منی میں تھے۔ اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ حالت احرام اور حرم میں بھی تمام حشرات کو مارنا جائز ہے۔ اس باب میں جن روایات کی تصحیح بیان کی ہے وہ ایام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ا لبتہ انھوں نے بھیڑیئے کو کتے کی طرح قرار دیا ہے
تخریج : بخاری فی الصید باب ٧۔
اس سے ثابت ہوا کہ تمام کیڑے مکوڑے بچھو کے حکم میں داخل ہیں اور ان کا قتل مباح ہے۔
اس باب میں وہ تمام روایات جن کو بیان کیا ہے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ البتہ بھیڑیئے کے علاوہ کو انھوں نے کلب عقور کی طرح قرار دیا ہے۔