۳۷۰۱ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ح
٣٧٠١: ربیع الموذن نے اسد سے روایت بیان کی ہے۔
حدود حرم کا شکار محرم و غیر محرم ہر ایک کے لیے مردار کے حکم میں ہے اسی طرح محرم کا حالت احرام میں شکار خواہ کسی صورت کا ہو مردار کا حکم رکھتا ہے۔
پھر شکار کا بدلہ لازم ہے۔ البتہ ائمہ ثلاثہ مثل صوری میں صوری کو اور بقیہ میں معنوی کو لازم کہتے ہیں جبکہ امام ابوحنیفہ بہر طور مثل معنوی کے قائل ہیں۔ اب رہا یہ مسئلہ کہ اگر غیر محرم حدود حرم سے باہر شکار کر کے لائے تو محرم کے لیے اس کا استعمال درست ہے یا نہیں اس میں امام شعبی ‘ لیث و مجاہد رحمہم اللہ شکار کا گوشت محرم کے لیے کھانا ناجائز قرار دیتے ہیں خواہ اس کا اس میں دخل ہو یا نہ۔
نمبر 2: امام مالک و شافعی ‘ احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جو شکار محرم کی خاطر کیا جائے وہ بھی مردار ہے۔ اگر وہ اس کے لیے نہ ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت اس کے لیے حلال ہے۔
نمبر 3: ائمہ احناف کے ہاں جس شکار میں محرم کا دخل نہ ہو خواہ محرم کی خاطر ہو اس کا کھانا حلال ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف :
محرم کے لیے کسی قسم کے شکار کا گوشت استعمال کرنا درست نہیں خواہ اس کی خاطر ذبح کیا جائے یا نہ۔ قالوا لا یحل سے یہی لوگ مراد ہیں۔
دلائل ملاحظہ ہوں