۳۷۰۲ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ (أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَزَلَ قُدَیْدًا‘ فَأُتِیَ بِالْحَجَلِ فِی الْجِفَانِ شَائِلَۃً بِأَرْجُلِہَا‘ فَأَرْسَلَ إِلٰی عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَجَائَ ہٗ وَالْخَبَطُ یَتَحَاتُّ مِنْ یَدَیْہٖ‘ فَأَمْسَکَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَمْسَکَ النَّاسُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَنْ ہَاہُنَا مِنْ أَشْجَعَ ؟ ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَ ہُ أَعْرَابِیٌّ بِبَیْضَاتٍ وَتَتْمِیْرٍ‘ أَیْ بِحَمِیْرِ وَحْشٍ فَقَالَ أَطْعِمْہُنَّ أَہْلَک‘ فَإِنَّا حُرُمٌ قَالُوْا : نَعَمْ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَالُوْا : لَا یَحِلُّ لِلْمُحْرِمِ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ صَیْدٍ قَدْ ذَبَحَہٗ حَلَالٌ‘ لِأَنَّ الصَّیْدَ نَفْسَہٗ حَرَامٌ عَلَیْہٖ‘ فَلَحْمُہٗ أَیْضًا حَرَامٌ عَلَیْہِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٧٠٢: عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں کہ عثمان (رض) مقام قدید میں اترے تو ان کے پاس چکور ایک بڑے برتن میں لائے گئے جبکہ ان پرندوں کے پاؤں اوپر کو اٹھ رہے تھے انھوں نے علی (رض) کی طرف پیغام بھیجا وہ جب آئے تو ان کے ہاتھوں سے پتے گر رہے تھے۔ پس علی (رض) (اس کے کھانے سے) رک گئے اور لوگ بھی رک گئے تو علی (رض) نے کہا۔ یہاں قبیلہ اشجع کا کوئی شخص موجود ہے ؟ کیا تم جانتے ہو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک بدو چند انڈے اور کچھ کھجوریں یا حمار وحشی کا چھوٹا بچہ شکار کر کے لایا تھا آپ نے فرمایا یہ اپنے گھر والوں کو کھلاؤ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں۔ اشجع کے لوگوں نے کہا یہ بات بالکل درست ہے۔ امام طحاوی ـ (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے کہا کسی محرم کو شکار کا گوشت دوست نہیں خواہ اسے غیر محرم نے ذبح کیا ہو کیونکہ اس پر حرام ہے اور انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٤٠‘ مسند احمد ١؍١٠٤۔
لغات : الحجل۔ یہ حجلہ کی جمع ہے۔ چکور ‘ کو نج ‘ الجفان جمع جفنۃ بڑا پیالہ۔ شائلۃ بارجلھا۔ اوپر کو پاؤں اٹھانا۔ الخبط۔ جھڑنے والے پتے ‘ یتحات۔ گرناعبداللہ بن حارث۔ یہ حضرت عثمان کی طرف سے طائف کے گورنر تھے۔ امسک۔ کھانے سے رکنا۔ حمیرۃ الوحش۔ جنگلی گدھے کا بچہ۔