hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3704

.

الطحاوي

3704
Al Tahawi
۳۷۰۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ‘ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِیِّ‘ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُہْدِیَ لَہٗ وَشِیْقَۃُ ظَبْیٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ‘ فَرَدَّہٗ) قَالَ یُوْنُسُ : سَمِعْتُہٗ کُلَّہٗ مِنْ سُفْیَانَ غَیْرَ قَوْلِہٖ (وَشِیْقَۃُ) فَإِنِّیْ لَمْ أَفْہَمْ ذٰلِکَ مِنْہُ‘ وَحَدَّثَنِیْہِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْہُ وَلَیْسَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ذِکْرُ عِلَّۃِ رَدِّہِ لَحْمَ الصَّیْدِ مَا ہِیَ ؟ فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ لِعِلَّۃِ الْاِحْرَامِ‘ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَّکُوْنَ لِغَیْرِ ذٰلِکَ‘ فَلاَ دَلَالَۃَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ لِأَحَدٍ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مِنْ رَأْیِہَا فِی الصَّیْدِ یَصِیْدُہُ الْحَلَالُ فَیَذْبَحُہُ‘ أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِأَکْلِہِ لِلْمُحْرِمِ
٣٧٠٤: حسن بن علی (رض) نے عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احرام کی حالت میں ہرن کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس فرما دیا۔ اس روایت میں آپ کے گوشت کو رد کرنے کی علت مذکور نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ احرام کی علت سے ہو دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے علاوہ اور وجہ ہو ۔ اس روایت میں کسی ایک مؤقف پر دلالت نہیں ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے شکار کے متعلق مروی ہے کہ جس شکار کو غیر محرم شکار کرے اور وہی ذبح کرے محرم کو اس کے کھانے میں چنداں حرج نہیں۔
یونس راوی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ تمام روایت سنی ہے البتہ وشیقہ کا لفظ مجھے سمجھ نہ آیا ہمارے بعض دیگر دوستوں نے مجھے ان کی طرف سے نقل کیا۔
تخریج : مسند احمد ٦؍٤٠‘ ٢٢٥۔
لغات : وشیقہ۔ گوشت کا وہ ٹکڑا جس کو خرابی سے بچانے کے لیے آدھا بھون کر سفر میں ساتھ لیا جائے تاکہ موقعہ بموقعہ استعمال ہو سکے۔ بعض نے خشک گوشت کا ٹکڑا مراد لیا ہے۔
سابقہ مؤقف کا جواب : لیس فی ہذا الحدیث۔۔۔ اس روایت میں گوشت کو واپس کرنے کی علت مذکور نہیں کہ اسے شکار ہونے کی وجہ سے مسترد کیا اور احرام کی وجہ سے واپس کیا یا کسی اور وجہ سے۔ پس شکار کے گوشت کے محرم کے لیے حرام ہونے کی اس میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ حضرت عائشہ (رض) کا عمل اس کے خلاف موجود ہے۔
روایات عائشہ (رض) آگے ملاحظہ ہوں