hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3739

.

الطحاوي

3739
Al Tahawi
۳۷۳۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ : ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عَمْرٍو عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ مِقْسَمٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (تُرْفَعُ الْأَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ‘ فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ‘ وَعِنْدَ الْبَیْتِ‘ وَعَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ وَبِعَرَفَاتٍ وَبِالْمُزْدَلِفَۃِ‘ وَعِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ)
٣٧٣٩: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے حکم عن مقسم سے انھوں نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات مقامات پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے نماز کی افتتاحی تکبیر میں ‘ بیت اللہ کے پاس ‘ صفاپر ‘ مروہ پر ‘ عرفات میں ‘ مزدلفہ میں ‘ رمی حمر تین کے بعد۔
بارہ مواقع میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے ان میں چار مواقع پر صرف ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں بقیہ سات مواقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا بھی کی جاتی ہے۔
چار مواقع : تکبیر تحریمہ ‘ تکبیرات عیدین ‘ تکبیر قنوت ‘ استلام حجر اسود کے وقت۔
سات مواقع : صفا پر ‘ مروہ پر ‘ وقوف عرفات کے دن ‘ وقوف مزدلفہ کے وقت ‘ جمرہ اولیٰ اور وسطیٰ کی رمی کے بعد ‘ نماز استسقاء کے بعد ‘ نماز کسوف کے بعد۔
مختلف فیہ موقعہ : بیت اللہ شریف پر نگاہ پڑتے وقت دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا۔ ابراہیم نخعی (رض) اور سعید (رح) کے ہاں بیت اللہ شریف پر نگاہ کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مسنون اور مستجاب ہے۔ ائمہ احناف اور مالک و حنبل کے ہاں اٹھا کر دعا کرنا مکروہ ہے۔ مگر صاحب بذل نے امام ابوحنیفہ و شافعی رحمہم اللہ کی طرف کراہت کی نسبت کا انکار کیا بلکہ قول اول کی تائید کی ہے۔ واللہ اعلم۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : بیت اللہ شریف پر نگاہ پڑنے کا موقعہ قبولیت دعا کا موقعہ ہے اس لیے یہاں دعا اور ہاتھ اٹھانا مسنون و مستجاب ہے۔ دلیل یہ روایات ہیں۔