۳۷۴۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُحَارِبِیُّ‘ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَکَانَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ مَأْخُوْذًا بِہٖ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا خَالَفَ شَیْئًا مِنْہُ‘ غَیْرَ رَفْعِ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ‘ فَإِنَّ قَوْمًا ذَہَبُوْا إِلٰی ذٰلِکَ‘ وَاحْتَجُّوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَکَرِہُوْا رَفْعَ الْیَدَیْنِ عِنْدَ رُؤْیَۃِ الْبَیْتِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٣٧٤٠: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو اپنایا گیا ہے ہمارے علم میں نہیں کہ کسی نے اس کے جزء سے اختلاف کیا سوائے بیت اللہ کے پاس ہاتھ اٹھانے کے۔ اس میں بعض علماء کہتے ہیں کہ ہاتھ اٹھاتے جائیں گے۔ اور ان کی دلیل یہ روایت ہے اور دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب بیت اللہ کو دیکھیں تو اس وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے اور انھوں نے مندرجہ ذیل سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلیل :
بیت اللہ کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔ دلیل یہ ہے۔