۳۷۴۳ : مَا حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیِّ قَالَ (تُرْفَعُ الْأَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ : فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ‘ وَفِی التَّکْبِیْرِ لِلْقُنُوْتِ فِی الْوِتْرِ‘ وَفِی الْعِیْدَیْنِ‘ وَعِنْدَ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ‘ وَعَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ وَبِجُمْعٍ وَعَرَفَاتٍ‘ وَعِنْدَ الْمَقَامَیْنِ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ) قَالَ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ : فَأَمَّا فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ فِی الْعِیْدَیْنِ‘ وَفِی الْوِتْرِ‘ وَعِنْدَ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ‘ فَیَجْعَلُ ظَہْرَ کَفَّیْہِ إِلٰی وَجْہِہٖ‘ وَأَمَّا فِی الثَّلَاثِ الْأُخَرِ‘ فَیَسْتَقْبِلُ بِبَاطِنِ کَفَّیْہِ وَجْہَہٗ فَأَمَّا مَا ذَکَرْنَا فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ‘ فَقَدْ اِتَّفَقَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ جَمِیْعًا وَأَمَّا التَّکْبِیْرَۃُ فِی الْقُنُوْتِ فِی الْوِتْرِ‘ فَإِنَّہَا تَکْبِیْرَۃٌ زَائِدَۃٌ فِیْ تِلْکَ الصَّلَاۃِ‘ وَقَدْ أَجْمَعَ الَّذِیْنَ یَقْنُتُوْنَ قَبْلَ الرُّکُوْعِ عَلَی الرَّفْعِ مَعَہَا فَالنَّظْرُ عَلٰی ذٰلِکَ‘ أَنْ یَّکُوْنَ کَذٰلِکَ کُلُّ تَکْبِیْرَۃٍ زَائِدَۃٍ فِیْ کُلِّ صَلَاۃٍ‘ فَتَکْبِیْرُ الْعِیْدَیْنِ الزَّائِدُ فِیْہَا عَلٰی سَائِرِ الصَّلَاۃِ‘ کَذٰلِکَ أَیْضًا وَأَمَّا عِنْدَ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ‘ فَإِنَّ ذٰلِکَ جُعِلَ تَکْبِیْرًا یُفْتَتَحُ بِہِ الطَّوَافُ‘ کَمَا یُفْتَتَحُ بِالتَّکْبِیْرِ الصَّلَاۃُ وَأَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا۔
٣٧٤٣: طلحہ بن مصرف نے ابراہیم نخعی (رح) کے متعلق بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا سات مقام پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔ تکبیر افتتاح ‘ تکبیر قنوت وتر ‘ عیدین ‘ استلامِ حجر کے وقت ‘ صفا مروہ پر ‘ عرفات میں ‘ جمرتین کے پاس۔ امام ابو یوسف (رح) فرماتے ہیں عیدین میں یا وتر یا استلام حجر کے وقت تو اپنی ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کی طرف کرے اور تین دوسرے مقامات پر اپنی ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کرے۔ افتتاح نماز میں تو تمام مسلمانوں کا رفع یدین پر اتفاق ہے اور تکبیر قنوت وتر میں یہ تکبیر زائد ہے جو لوگ رکوع سے پہلے قنوت مانتے ہیں وہ اس کے ساتھ رفع یدین کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ہر نماز جس میں زائد تکبیرات ہوں اس میں رفع یدین ہو ۔ تکبیرات عیدین زائد ہیں جو بقیہ نمازوں سے زائد ہیں۔ ان میں حکم اسی طرح ہے۔ باقی حجر اسود کو بوسہ دینے کے وقت پس یہ تکبیر افتتاح طواف کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ جیسا کہ تکبیر سے نماز کا افتتاح کیا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کا حکم فرمایا ہے۔
نظر طحاوی (رح) :
نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وہ تکبیر جو نماز میں زائد ہو اس کا یہی حکم ہے کہ اس کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں گے تکبیر عیدین وہ تمام نمازوں کی تکبیر سے زائد ہے اس لیے اس میں بھی ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔ باقی رہا استلام حجر تو اس کو تکبیر افتتاح نماز کی طرح قرار دیا جس طرح کہ تکبیر سے طواف شروع کرتے ہیں جیسا کہ تکبیر سے نماز کو شروع کیا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا حکم فرمایا ہے۔ روایت آگے ملاحظہ ہو۔