۳۷۴۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ أَبِیْ یَعْفُوْرٍ الْعَبْدِیِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَمِیْرًا کَانَ عَلٰی مَکَّۃَ‘ مِنْ طَرَفِ الْحَجَّاجِ عَنْہَا سَنَۃَ ثَلاَثٍ وَسَبْعِیْنَ یَقُوْلُ (کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رَجُلًا قَوِیًّا‘ وَکَانَ یُزَاحِمُ عَلَی الرُّکْنِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا أَبَا حَفْصٍ‘ أَنْتَ رَجُلٌ قَوِیٌّ‘ وَإِنَّک تُزَاحِمُ عَلَی الرُّکْنِ‘ فَتُؤْذِی الضَّعِیْفَ‘ فَإِذَا رَأَیْتَ خَلْوَۃً فَاسْتَلِمْہُ‘ وَإِلَّا فَکَبِّرْ وَامْضِ)
٣٧٤٤: ابو یعفور عبدی کہتے ہیں کہ میں نے مکہ کے گورنر سے سنا جو کہ ٧٣ ھ میں حجاج کی طرف سے حاکم تھا وہ کہتے ہیں عمر (رض) ایک طاقتور آدمی تھے اور وہ رکن حجر پر لوگوں سے مزاحمت کرتے تھے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کہا اے ابو حفص ! تم طاقت ور آدمی ہو تم رکن کے پاس بھیڑ بناؤ گے پس اس طرح تم کمزور کو ایذا دو گے پس اگر خالی جگہ پاؤ تو استلام کرلو ورنہ تکبیر کہہ کر آگے روانہ ہوجاؤ۔
تخریج : مسند احمد ١؍٢٨۔