۳۷۴۵ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ یَعْفُوْرٍ‘ عَنْ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَۃَ قَالَ : وَکَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَہٗ عَلٰی مَکَّۃَ‘ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ فَلَمَّا جَعَلَ ذٰلِکَ التَّکْبِیْرَ یَفْتَتِحُ بِہِ الطَّوَافَ‘ کَالتَّکْبِیْرِ الَّذِی جُعِلَ یُفْتَتَحُ بِہٖ الصَّلَاۃُ أُمِرَ بِالرَّفْعِ فِیْہِ‘ کَمَا یُؤْمَرُ بِالرَّفْعِ فِی التَّکْبِیْرِ لِاِفْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ‘ وَلَا سِیَّمَا اِذْ قَدْ جَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلطَّوَافَ بِالْبَیْتِ صَلَاۃً
٣٧٤٥: ابو یعفور نے خزاعہ کے ایک آدمی سے بیان کیا جس کو حجاج نے مکہ پر عامل بنایا تھا پھر اس نے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ پس جب یہ تکبیر افتتاح طواف کے لیے مقرر کی گئی ہے اس تکبیر کی طرح جو نماز کو شروع کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے تو اس میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے جیسا کہ نماز کو شروع کرنے والی تکبیر میں رفع یدین کا حکم ہے۔ خصوصاً جب کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے طواف کو بمنزلہ نماز قرار دیا ہے۔
نوٹ : سابقہ روایات سے معلوم ہو رہا ہے کہ طواف کی ابتداء بھی تکبیر سے ہوگی اور اس کی ابتداء میں افتتاح نماز کی طرح تکبیر کہی جائے گی تو اس میں تکبیر صلوۃ کی طرح ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور خاص طور پر اس وجہ سے بھی اٹھائے جائیں کیونکہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف بیت اللہ کو نماز قرار دیا۔