hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3747

.

الطحاوي

3747
Al Tahawi
۳۷۴۷ : وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَا : ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ‘ عَنْ طَاوٗسٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاۃٌ‘ إِلَّا أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّ لَکُمْ النُّطْقَ‘ فَمَنْ نَطَقْ فَلاَ یَنْطِقْ إِلَّا بِخَیْرٍ) فَھٰذِہِ الْعِلَّۃُ الَّتِیْ لَہَا وَجَبَ الرَّفْعُ فِیْمَا زَادَ عَلٰی مَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ وَأَمَّا الرَّفْعُ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ وَبِجَمْعٍ‘ وَ (عَرَفَاتٍ) وَعِنْدَ الْمَقَامَیْنِ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ‘ فَإِنَّ ذٰلِکَ قَدْ جَائَ مَنْصُوْصًا فِی الْخَبَرِ الْأَوَّلِ وَھٰذَا الَّذِی وَصَفْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْمَعَانِی الَّتِی ثَبَّتْنَاہَا‘ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٧٤٧: طاؤس نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ طواف بیت اللہ نماز کی طرح ہے بس فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں گفتگو کو حلال قرار دیا ہے پس جو شخص گفتگو کرے وہ بھلائی کی بات کرے۔ یہ وہ علت ہے جس کی بناء پر حدیث اول سے زائد مذکورہ مقامات پر ہاتھ اٹھانا واجب ہے۔ باقی صفا ‘ مروہ ‘ مزدلفہ و عرفات اور جمرتین کے پاس کے ہاتھوں کا اٹھانا یہ خبر اول کی نص میں موجود ہے۔ یہ اس روایت کا معنی ہے جس کو ہم کھول دیا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔
تخریج : دارمی فی المناسک باب ٣٢۔
نوٹ : یہ ہے کہ اس علت کی وجہ سے ہاتھ اٹھانے کا حکم اس مقام پر لازم ہوا دوسرے مقامات پر ہاتھ اٹھانا جیسے صفا ‘ مروہ ‘ عرفات ‘ جمرتین کے پاس ‘ تو یہ نص میں وارد ہیں۔
ان آثار کے یہ معانی جن کو ہم نے ثابت کیا ہے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
رمل سینہ تان کر تیز چلنے کو کہتے ہیں اس کا حکم عمرۃ القضاۃ کے موقعہ پر مشرکین کے اعتراض کے ازالہ کے لیے ہوا بعد میں اس کو ہمیشہ کے لیے باقی رکھا گیا عمرۃ القضاۃ کے موقع پر مشرکین کا قیام جبل قیقعان پر تھا جو باب مدینہ اور باب حدیبیہ کے مقابل رکن شامی و عراقی کی طرف واقع ہے رمل کا حکم مکی اور آفاتی ہر ایک کے لیے ہر اس طواف میں ہے جس کے بعد سعی ہو رمل کا حکم عبداللہ بن عباس (رض) اور ان کے شاگردوں کے ہاں زمانہ نبوت کے ساتھ خاص تھا مگر ائمہ اربعہ اور جمہور کے ہاں قیامت تک باقی ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل :
رمل کا حکم زمانہ نبوت کے ساتھ خاص تھا جو وقتی علت کے پیش نظر تھا علت جانے سے حکم بھی جاتا رہا دلیل یہ ہے۔