hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3748

.

الطحاوي

3748
Al Tahawi
۳۷۴۸ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ عَاصِمٍ الْغَنَوِیِّ‘ (عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ‘ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : زَعَمَ قَوْمُک أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَیْتِ‘ وَأَنَّ ذٰلِکَ سُنَّۃٌ قَالَ : صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا قُلْتُ : مَا صَدَقُوْا وَمَا کَذَبُوْا ؟ قَالَ صَدَقُوْا‘ رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَیْتِ‘ وَکَذَبُوْا‘ لَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ‘ إِنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ : دَعُوْا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ حَتّٰی یَمُوْتُوْا مَوْتَ النَّغَفِ‘ فَلَمَّا صَالَحُوْہُ عَلٰی أَنْ یَجِیْئَ فِی الْعَامِ الْمُقْبِلِ‘ فَیُقِیْمَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ بِمَکَّۃَ‘ فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہٗ، وَالْمُشْرِکُوْنَ عَلٰی جَبَلِ قُعَیْقِعَانَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ اُرْمُلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلاَثًا وَلَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الرَّمَلَ فِی الطَّوَافِ لَیْسَ بِسُنَّۃٍ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ وَقَالُوْا إِنَّمَا کَانَ الرَّمَلُ لِیَرَی الْمُشْرِکُوْنَ أَنَّ بِہِمْ قُوَّۃً‘ وَأَنَّہُمْ لَیْسُوْا بِضُعَفَائَ ‘ لَا لِأَنَّ ذٰلِکَ سُنَّۃٌ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٧٤٨: ابوالطفیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے دریافت کیا آپ کی قوم کا خیال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں رمل کیا اور یہ سنت ہے انھوں نے کہا انھوں نے سچ کہا اور جھوٹ بولا۔ میں نے کہا کون سی بات انھوں نے درست کہی اور کون سی جھوٹی کہی۔ انھوں نے جواب دیا کہ اتنی بات تو درست ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف بیت اللہ میں رمل کیا اور اس بات میں جھوٹ بولا کہ یہ سنت ہے ‘ یہ سنت نہیں ہے۔ قریش نے حدیبیہ کے زمانہ میں کہا تھا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب کو چھوڑ دو یہاں تک کہ نتھنوں کے کیڑے کی طرح مرجائیں۔ جب انھوں نے صلح کرلی کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں اور تین روز تک وہ مکہ میں قیام کریں تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام آئے اس وقت مشرکین جبل قیقعان پر چڑھ گئے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو فرمایا بیت اللہ کے پہلے تین چکروں میں رمل کرو اور یہ ہمیشہ کی سنت نہیں ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے کہ طواف میں رمل سنت نہیں ہے اور انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے اور کہا کہ یہ صرف مشرکین کے سامنے قوت کے مظاہرہ کے لیے تھا کہ ہم کمزور نہیں ہیں۔ اس بنا پر نہیں کہ یہ ایک مستقل طریقہ ہے اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا۔
تخریج : مسلم فی الحج ٢٣٧‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٥٠۔