۳۷۵۲ : بِمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَیْثَمٍ‘ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ‘ فَرَمَلَ بِالْبَیْتِ ثَلاَثًا‘ وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَشْوَاطٍ) فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَلَ الْأَشْوَاطَ کُلَّہَا‘ وَقَدْ کَانَ فِیْ بَعْضِہَا حَیْثُ یَرَاہُ الْمُشْرِکُوْنَ‘ وَفِیْ بَعْضِہَا حَیْثُ لَا یَرَوْنَہٗ فَفِیْ رَمْلِہٖ حَیْثُ لَا یَرَونَہٗ، دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَیْسَ مِنْ أَجْلِہِمْ رَمَلَ‘ وَلٰـکِنْ لِمَعْنًی آخَرَ۔
٣٧٥٢: ابوالطفیل نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل فرمایا یہ رمل پہلے تین چکروں میں تھا اور بقیہ چار چکروں میں اپنی رفتار سے چلے۔ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام چکروں میں رمل فرمایا اور بعض میں تو اس جگہ جہاں مشرکین دیکھ لیں اور بعض میں اس جگہ جہاں وہ نہ دیکھتے تھے۔ آپ کے اس مقام پر رمل میں جہاں مشرکین نہ دیکھتے تھے اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ کسی اور مقصد کی کا خاطر تھا۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٥٠۔
حاصل روایت : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام چکروں میں رمل فرمایا بعض میں ایسی جگہ ہیں کہ مشرکین دیکھ لیں اور بعض میں ہے کہ جہاں مشرکین نہ بھی دیکھتے ہوں آپ کے اس جگہ رمل کرنے میں جہاں مشرکین نہ دیکھتے تھے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمل فقط انہی کی خاطر نہ تھا بلکہ اس کی اور وجہ بھی تھی۔