hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3751

.

الطحاوي

3751
Al Tahawi
۳۷۵۱ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی الْحِمَّانِیِّ قَالَ : ثَنَا قَیْسٌ‘ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَیِّبِ‘ عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَلَ فِی الْعُمْرَۃِ‘ وَمَشٰی فِی الْحَجِّ) أَفَلاَ تَرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَرْمُلْ فِیْ حَجِّہِ حَیْثُ عُدِمَ الَّذِیْنَ مِنْ أَجْلِہِمْ رَمَلَ فِیْ عُمْرَتِہٖ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : الرَّمَلُ فِی الْأَشْوَاطِ الثَّلَاثَۃِ الْأُوَلِ سُنَّۃٌ‘ لَا یَنْبَغِی تَرْکُہَا فِی الْحَجِّ‘ وَلَا فِی الْعُمْرَۃِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٧٥١: مجاہد نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ میں رمل کیا اور حج میں عام معمول کے مطابق چلے۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٥١‘ کی طرح روایت ہے۔
حاصل روایات : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں رمل نہیں کیا کیونکہ یہ مشرکین کی وجہ سے کیا اور اب مکہ دارا الاسلام بن چکا تھا اور مشرک مسلمان بن چکے تھے۔ پس اس کا مسنون ہونا ثابت نہ ہوا۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلیل :
پہلے تین چکروں میں رمل سنت ہے حج میں اس کو چھوڑنا جائز نہیں اور نہ ہی عمرہ میں اس کو چھوڑنا درست ہے دلائل یہ ہیں اور یہ سابقہ روایات ابن عباس (رض) اور ابن عمر (رض) کا جواب بھی ہیں۔