hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3760

.

الطحاوي

3760
Al Tahawi
۳۷۶۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا رَمَلَ فِیْ ثَلاَثَۃٍ مِنْہُنَّ‘ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ) فَلَمَّا ثَبَتَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ أَنَّہٗ رَمَلَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ‘ وَلَا عَدُوَّ‘ ثَبَتَ أَنَّہٗ لَمْ یَفْعَلْہُ، اِذَا کَانَ الْعَدُوُّ مِنْ أَجْلِ الْعَدُوِّ وَلَوْ کَانَ فَعَلَہُ اِذْ کَانُوْا مِنْ أَجْلِہِمْ‘ لَمَا فَعَلَہٗ فِیْ وَقْتِ عَدَمِہِمْ‘ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الرَّمَلَ فِی الطَّوَافِ‘ مِنْ سُنَنِ الْحَجِّ الْمَفْعُوْلَۃِ فِیْہٖ‘ الَّتِیْ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہَا وَقَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ أَیْضًا أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہٖ۔
٣٧٦١: جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انھوں نے جابر (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کے سات چکر لگائے ان میں سے تین میں رمل کیا جو کہ حجر سے حجر تک تھا۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ نے حجۃ الوداع میں رمل کیا جب کہ اس وقت کوئی دشمن نہ تھا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جب آپ نے پہلے کیا تو دشمن کی وجہ سے نہیں کیا اگر ان کی وجہ سے کیا ہو تاتو ان کے نہ ہونے کی حالت میں آپ اس کو اختیار نہ فرماتے پس اس سے یہ بات پا یہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ طواف میں رمل ہے اور یہ حج کے اندر کیے جانے والے ان اعمال سے ہے جن کا ترک کرنا مناسب نہیں ہے اور اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے بعد اسے کیا ہے۔
تخریج : مسلم فی الحج ٢٣٥‘ ترمذی فی الحج باب ٣٤‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٢٩۔
حاصل روایات : جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع میں رمل کرنا ثابت ہوگیا جبکہ اس وقت دشمن کا کوئی نام و نشان نہ تھا تو اس سے یہ خود ثابت ہوگیا کہ دشمن کی موجودگی میں جو کیا وہ فقط دشمن کی وجہ سے نہ تھا اگر یہ فقط کفار کی خاطر کیا جانے والا فعل ہوتا تو ان کی عدم موجودگی میں اس کو انجام دینے کی چنداں حاجت نہ تھی اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ رمل طواف میں کرنا سنن حج سے ہے اور اس کا کرنا بہرصورت ضروری ہے۔