۳۷۶۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحُنَیْنِیُّ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ‘ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عُمَرَ قَالَ (فِیْمَا الرَّمَلُ الْآنَ‘ وَالْکَشْفُ عَنِ الْمَنَاقِبِ) وَقَدْ نَفَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الشِّرْکَ وَأَہْلَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَا نَدَعُ شَیْئًا عَمِلْنَاہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
٣٧٦١: زید بن اسلم نے اپنے والد سے انھوں نے عمر (رض) سے نقل کیا کہ انھوں نے فرمایا اب رمل کیوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے شرک اور اہل شرک کی بیخ کنی کردی یعنی عملی طور پر اس کی عقلی وجہ کوئی نہیں مگر ہم کسی ایسے عمل کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جس کو ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا اور آپ کے ساتھ کیا۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٥٠۔