۳۷۶۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ (کُنَّا نَسْتَلِمُ الْأَرْکَانَ کُلَّہَا) .
٣٧٦٥: ابوالزبیر نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا کہ ہم تمام ارکان کا استلام کیا کرتے تھے۔
استلام ہاتھ سے چھونے اور ہاتھ پھیرنے کو کہتے ہیں اور تقبیل بوسہ دینے کو کہا جاتا ہے۔ حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام ہے اور تقبیل فقط حجر اسود کی ہے یا چاروں ارکان کا استلام ہے۔ ! حضرت معاویہ ‘ حضرت حسن و حسین (رض) اور عروہ و سوید رحمہم اللہ چاروں ارکان کا استلام مسنون قرار دیتے ہیں۔
نمبر 2: حضرت عمر ‘ ابن عباس (رض) اور ائمہ اربعہ ‘ جمہور فقہاء ‘ حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام مسنون مانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل :
بیت اللہ شریف کے طواف کے وقت چاروں ارکان کا استلام کیا جائے گا۔ دلیل یہ ہے۔