۳۷۶۶ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ طَہْمَانَ‘ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ‘ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ‘ فَیَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَسْتَلِمَ أَرْکَانَہُ کُلَّہَا‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَسْتَلِمَ مِنَ الْأَرْکَانِ فِی الطَّوَافِ غَیْرَ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٣٧٦٦: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرے ۔ اسے چاہیے کہ وہ اس کے تمام ارکان کو بوسہ دیا اور انھوں نے اس کی دلیل میں مذکورہ بالا روایت کو پیش کیا ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا طواف میں دویمانی ارکان کو بوسہ دے جائے گا اور انھوں نے ذیل کی روایات سے استدلال کیا ہے۔
اس اثر سے حضرت جابر (رض) کا تمام ارکان کو استلام کرنا ثابت ہو رہا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام درست اور مسنون ہے بقیہ کا نہیں۔ یہ اگلی روایات ثبوت ہیں۔