۳۷۷۹ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَخْبَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (أَلَمْ تَرٰی أَنَّ قَوْمَک حِیْنَ بَنَوا الْکَعْبَۃَ‘ اقْتَصَرُوْا عَنْ قَوَاعِدِ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ .قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ أَفَلاَ تَرُدَّہَا عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاہِیْمَ .قَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِک بِالْکُفْرِ) .قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سَمِعْتُ ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَرَکَ اسْتِلَامَ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِ یَلِیَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یَتِمَّ عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ) .فَثَبَتَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ مَا ذَکَرْنَا‘ وَأَنَّہٗ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَسْتَلِمَ مِنْ أَرْکَانِ الْبَیْتِ إِلَّا الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ .وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٧٧٩: عبداللہ بن محمد بن ابی بکر (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے عائشہ صدیقہ (رض) سے خبر دی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تو نہیں دیکھتی کہ جب تمہاری قوم قریش نے کعبہ تعمیر کیا تو انھوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں سے اسے کم کردیا۔ عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر نہ لوٹا دیں ؟ آپ نے فرمایا۔ اگر وہ (قریش) نئے نئے مسلمان نہ ہوئے اور ان کا کفر والا زمانہ قریب نہ ہوتا (تو میں ایسا کردیتا) اس پر عبداللہ بن عمر (رض) کہنے لگے اگر عائشہ صدیقہ (رض) نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی ہے تو میرا خیال یہ ہے کہ حطیم کے قریب والے ارکان کا استلام جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی وجہ سے ترک فرمایا کیونکہ بیت اللہ شریف ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر نہیں (اور یہ رکن اپنے مقام پر نہیں ہیں پس قابل استلام نہیں) ۔ ان آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بیت اللہ کے ارکان میں سے صرف دو یمانی ارکان کا استلام ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ پس آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ صرف ارکان یمانیہ کا استلام کیا جائے گا۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ اور تمام فقہاء کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب کا اختلاف بھی جائز ناجائز کا ہے ارکان یمانیہ کے سوا دوسرے ارکان کا استلام جائز نہیں ہے۔