hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3780

.

الطحاوي

3780
Al Tahawi
۳۷۸۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی‘ قَالَ : أَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ‘ عَنِ ابْنِ بَابَاہُ‘ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَفَعَہُ أَنَّہٗ قَالَ : (یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ‘ لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا یَطُوْفُ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَیُصَلِّیْ أَیَّ سَاعَۃٍ شَائَ ‘ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ) .
٣٧٨٠: ابن باباہ نے جبیر بن مطعم (رض) سے ‘ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبدالمطلب ! تم تو کسی کو اس بیت اللہ کا طواف کرنے سے مت روکو اور نہ نماز سے روکو خواہ وہ کسی وقت نماز ادا کرے رات کا وقت ہو یا دن کا۔
ہر طواف کے بعد دو رکعت امام احمد ومالک کے ہاں مسنون اور احناف کے نزدیک واجب ہیں۔ مسلسل کئی طواف کی نماز اکٹھی کراہت تنزیہی کے ساتھ درست ہے یہ دو رکعت حطیم کعبہ یا مقام ابراہیم کے پاس یا مسجد میں جہاں جگہ ملے جائز ہیں۔ سعی کے بعد دو نفل مستحب ہیں اور مطلب بن ابی وداعہ کی روایت سے ثابت ہیں۔ طواف میں نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ نہیں طواف کی رکعات فجر و عصر کے بعد ! امام احمد و شافعی رحمہم اللہ کے ہاں بلاکراہت درست ہیں اور " احناف کے معروف مسلک کے مطابق مکروہ تحریمی ہیں #اور ابراہیم نخعی اور سفیان وعطاء ‘ خود طحاوی رحمہم اللہ کے ہاں اصفرار سے پہلے تک بلاکراہت جائز ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف و دلیل :
طواف کی دو رکعات عصر و فجر کے بعد بلاکراہت درست ہیں دلیل یہ ہے۔