۳۷۸۵ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ قَالَ : أَنَا نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدِمَ مَکَّۃَ عِنْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ‘ فَطَافَ وَلَمْ یُصَلِّ إِلَّا بَعْدَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ .وَالنَّظْرُ یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا‘ لِأَنَّا قَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (نَہٰی عَنْ صِیَامِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ النَّحْرِ) ، فَکُلٌّ قَدْ أَجْمَعَ أَنَّ ذٰلِکَ فِیْ سَائِرِ الْبُلْدَانِ سَوَاء ٌ .فَالنَّظْرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَّکُوْنَ مَا نَہٰی عَنْہُ مِنَ الصَّلَوَاتِ‘ فِی الْأَوْقَاتِ الَّتِیْ نَہٰی عَنِ الصَّلَوَاتِ فِیْہَا‘ فِیْ سَائِرِ الْبُلْدَانِ کُلِّہَا عَلَی السَّوَائِ .فَبَطَلَ بِذٰلِکَ قَوْلُ مَنْ ذَہَبَ إِلَی اِبَاحَۃِ الصَّلَاۃِ لِلطَّوَافِ فِی الْأَوْقَاتِ الْمَنْہِیِّ عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْہَا .ثُمَّ افْتَرَقَ الَّذِیْنَ خَالَفُوْا أَہْلَ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی فِرْقَتَیْنِ .فَقَالَتْ فِرْقَۃٌ مِنْہُمْ : لَا یُّصَلِّی فِیْ شَیْئٍ مِنْ ھٰذِہِ الْخَمْسَۃِ الْأَوْقَاتِ لِلطَّوَافِ‘ کَمَا لَا یُّصَلِّی فِیْہَا لِلتَّطَوُّعِ‘ وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبُوْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٌ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ وَافَقَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ‘ مَا رَوَیْنَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ وَمُعَاذِ ابْنِ عَفْرَائَ ‘ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ : یُصَلَّی لِلطَّوَافِ بَعْدَ الْعَصْرِ‘ قَبْلَ اصْفِرَارِ الشَّمْسِ‘ وَبَعْدَ الصُّبْحِ‘ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ‘ وَلَا یُصَلَّی لِذٰلِکَ فِی الْأَوْقَاتِ الثَّلَاثَۃِ الْبَوَاقِی الْمَنْہِیِّ عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْہَا‘ وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ‘ مُجَاہِدٌ‘ وَإِبْرَاہِیْمُ النَّخَعِیُّ‘ وَعَطَاء ٌ .
٣٧٨٥: حضرت نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ ابن عمر (رض) نماز صبح کے وقت مکہ میں آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا مگر نماز طواف اس وقت ادا نہ کی یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا۔ اس پر نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ان اوقات ممنوعہ میں نمازوں کی ممانعت کا تعلق تمام شہروں سے برابر ہو ۔ اس سے ان لوگوں کا قول نادرست ثابت ہوا جو رکعات طواف کی ادائیگی کو اوقات ممنوعہ میں جائز قرار دیتے ہیں۔ پھر وہ حضرات جنہوں نے قول اول کے قائلین سے اختلاف کیا ان کی دو جماعتیں ہوگئیں۔ ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ طواف کی ان رکعات کو ان پانچوں اوقات میں سے کسی میں بھی ادا نہ کیا جائے گا جیسا کہ نوافل کو ان پانچ اوقات میں پڑھا نہیں جاتا اور یہ قول امام ابوحنیفہ ابویوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا ہے اور حضرت عمر ‘ معاذ بن عفراء اور ابن عمر (رض) کا قول بھی روایات میں اسی طرح ہے۔ ان میں سے دوسری جماعت نے کہا کہ طواف کی رکعات کو عصر کے بعد سورج کے زرد ہونے سے پہلے ادا کرسکتے ہیں اور اسی طرح صبح کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے بھی ادا کرسکتے ہیں البتہ باقی تین اوقات میں ان کی ادائیگی نہیں کی جاسکتی یہ مجاہد ‘ ابراہیم نخعی ‘ عطاء اور تابعین (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : اس روایت سے بھی ثابت ہے کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد اوقات ممنوعہ عن النفل میں نماز طواف درست نہیں۔
نظری دلیل :
نظر کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے یوم فطر و نحر کے روزوں سے منع فرمایا اور سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ حکم مکہ سمیت تمام شہروں کا ہے پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ جن ا وقات میں نمازوں سے منع کیا گیا ہے یہ ممانعت بھی تمام شہروں کو شامل ہو۔ اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہوگئی جو نماز طواف کو اوقات ممنوعہ میں جائز قرار دینے والے ہیں۔
اب فریق ثانی میں دو جماعتیں بن گئیں ایک جماعت جس میں ائمہ احناف رحمہم اللہ ہیں کہ ان پانچ اوقات میں رکعات طواف بھی ادا نہیں کی جا سکتیں جیسا کہ نوافل ادا نہیں کئے جاسکتے اس کی دلیل میں حضرت عمر ‘ معاذ بن عفراء اور ابن عمر ] کی روایات ہیں۔
جبکہ دوسری جماعت جس میں امام مجاہد ‘ ابراہیم نخعی ‘ عطاء رحمہم اللہ شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ اوقات ثلاثہ میں تو ان رکعات کو ادا نہیں کیا جاسکتا البتہ عصر کے بعد اصفرار آفتاب سے پہلے اور فجر کے بعد طلوع سے پہلے تک رکعات طواف کو ادا کیا جاسکتا ہے۔