hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3802

.

الطحاوي

3802
Al Tahawi
۳۸۰۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ (أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَہْلَلْنَا مَعَہٗ بِالْحَجِّ خَالِصًا‘ حَتّٰی اِذَا قَدِمْنَا مَکَّۃَ رَابِعَۃَ ذِی الْحِجَّۃِ‘ فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ ثُمَّ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ یَکُنْ سَاقَ ہَدْیًا أَنْ یَحِلَّ‘ قَالَ : وَلَمْ یَعْزِمْ فِیْ أَمْرِ النِّسَائِ .قَالَ جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : فَقُلْنَا تَرَکَنَا‘ حَتّٰی اِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ إِلَّا خَمْسُ لَیَالٍ‘ أَمَرَنَا نَحِلُّ‘ فَنَأْتِیَ عَرَفَاتٍ وَالْمَذْیُ یَقْطُرُ مِنْ مَذَاکِیْرِنَا‘ وَلَمْ یَحْلِلْ ہُوَ‘ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ سَاقَ الْہَدْیَ .فَبَلَغَ قَوْلُنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ‘ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہٖ‘ ثُمَّ ذَکَرَ الَّذِیْ بَلَغَہٗ مِنْ قَوْلِہِمْ فَقَالَ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّیْ أَصْدَقُکُمْ وَأَتْقَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَبَرُّکُمْ‘ وَلَوْلَا أَنِّیْ سُقْتُ الْہَدْیَ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِیْ مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا أَہْدَیْتُ) .قَالَ جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : فَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا فَحَلَلْنَا .
٣٨٠٢: عطاء بن ابی رباح نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھا اور ہم نے آپ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا یہاں تک کہ جب ہم مکہ پہنچے تو چار ذی الحجہ تھی ہم نے طواف اور سعی صفاء مروہ کی۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا جس نے ہدی روانہ نہیں کی وہ حلال ہوجائے۔ جابر (رض) کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کے متعلق کوئی مستقل بات نہیں فرمائی۔ جابر (رض) کہتے ہیں ہم نے کہا ہم تو چھوڑ دیئے گئے جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہوجائیں ہم نے کہا ہم عرفات میں آئیں گے اس حال میں کہ مذی ہمارے مذاکیر سے ٹپک رہی ہوگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام نہ کھولا اس لیے کہ آپ ہدی روانہ کرچکے تھے۔
ہماری بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کا تذکرہ کیا جو ہماری طرف سے پہنچی تھی آپ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ تقویٰ والا ہوں اور سب سے زیادہ نیکی والا ہوں اگر میں نے ہدی روانہ نہ کی ہوتی تو میں ضرور حلال ہوجاتا۔ اور اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد کو علم ہوا تو میں ہدی روانہ ہی نہ کرتا۔ جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حکم سنا اور مان لیا اور احرام کھول دیا۔