hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3829

.

الطحاوي

3829
Al Tahawi
۳۸۲۹ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَنْصَارِیُّ‘ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیْسَ الْمَکِّیُّ‘ قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کَفَاہُ لَہُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ‘ وَسَعْیٌ وَاحِدٌ‘ ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتّٰی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ فَقَالُوْا : عَلَی الْقَارِنِ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘ طَوَافٌ وَاحِدٌ لَا یَجِبُ عَلَیْہِ مِنَ الطَّوَافِ غَیْرُہٗ۔ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : بَلْ یَطُوْفُ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا‘ وَیَسْعَیْ لَہُمَا سَعْیًا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِیْہِ الدَّرَاوَرْدِیُّ‘ فَرَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَإِنَّمَا أَصْلُہٗ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‘ عَنْ نَفْسِہِ‘ ہٰکَذَا رَوَاہُ الْحُفَّاظُ‘ وَہُمْ‘ مَعَ ھٰذَا‘ فَلاَ یَحْتَجُّوْنَ بِالدَّرَاوَرْدِیِّ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ أَصْلًا فَکَیْفَ یَحْتَجُّوْنَ بِہٖ فِیْ ھٰذَا .فَأَمَّا مَا رَوَاہُ الْحُفَّاظُ مِنْ ذٰلِکَ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ‘ فَمَا
٣٨٢٩ : حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے تو اسے ایک طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے ‘ پھر وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک کہ وہ دونوں کے افعال سے فارغ نہ ہوجائے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ قارن پر حج وعمرہ کا طرف ایک طواف ہے اس سے زائد طواف نہیں دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔ ہر ایک کیلئے ایک ایک طواف لازم ہے اور ہر ایک کی ایک ایک سعی کرے ۔ ان کی دلیل یہ ہے۔ کہ اس حدیث میں در اور دی راوی سے خطاء واقع ہوئی ہے کہ اس نے اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مرفوع کردیا حالانکہ اصل یہ ابن عمر (رض) کا اثر ہے حفاظ نے اس کو اسی طرح بتلایا ہے اور دوسری بات دراوردی ان کے ہاں قابل حجت نہیں ہے خصوصا جو وہ عبید اللہ (رح) کی روایت سے نقل کرے۔ پس اس سے ان کا استدلال نہایت کمزور ہے ‘ عبداللہ (رح) سے حفاظ نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے۔