۳۸۶۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ عَنْ مَنْصُوْرٍ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّہٗ صَلّٰیْ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلَاتَیْنِ مَرَّتَیْنِ بِجَمْعٍ‘ کُلُّ صَلَاۃٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ‘ وَالْعَشَائُ بَیْنَہُمَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلَی ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ فَزَعَمُوْا أَنَّ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ ‘ یُجْمَعُ بَیْنَہُمَا بِمُزْدَلِفَۃَ بِأَذَانَیْنِ وَإِقَامَتَیْنِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : أَمَّا الْأُوْلٰی مِنْہُمَا‘ فَتُصَلّٰی بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ‘ وَأَمَّا الثَّانِیَۃُ‘ فَتُصَلّٰی بِلَا أَذَانٍ وَلَا إقَامَۃٍ .وَقَالُوْا : أَمَّا مَا کَانَ مِنْ فِعْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَمِنْ تَأْذِیْنِہٖ لِلثَّانِیَۃٖ،فَإِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّ النَّاسَ قَدْ کَانُوْا تَفَرَّقُوْا لِعَشَائِہِمْ‘ فَأَذَّنَ لِیَجْمَعَہُمْ .وَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ نَحْنُ اِذَا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنِ الْاِمَامِ لِعَشَائٍ أَوْ لِغَیْرِہِ‘ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ لِیَجْتَمِعُوْا لِأَذَانِہٖ۔ فَھٰذَا مَعْنٰی مَا رُوِیَ فِیْ ھٰذَا عَنْ عُمَرَ‘ وَاَلَّذِی رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ‘ فَہُوَ مِثْلُ ھٰذَا أَیْضًا .
٣٨٦٥: اسود نے روایت کی ہے کہ میں نے جناب عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ میں دو مرتبہ دو نمازیں پڑھیں۔ ہر نماز اذان و اقامت کے ساتھ پڑھی مگر شام کا کھانا ان دونوں کے درمیان تناول کیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے ان روایات کو سامنے رکھ کر یہ خیال کیا کہ مغرب و عشاء مزدلفہ میں دو اذان اور دو اقامت سے جمع کی جائیں گی ۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ان میں سے پہلی نماز تو ایک اذان اور اقامت پڑھی جائے گی۔ باقی حضرت عمر (رض) کا عشاء کے لیے اذان دلانا اس لیے تھا کہ لوگ کھانا کھانے کے لیے منتشر ہوگئے تو ان کو جمع کرنے کے لیے اذان دلوائی اور ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جب لوگ امام سے منتشر ہوجائیں تو ان کے جمع کرنے کے لیے اذان دی جاسکتی ہے۔ خواہ کھانے یا کسی دوسری ضرورت کے لیے منتشر ہوں۔ پس آپ نے موذن کو حکم دیا تاکہ اذان کی وجہ سے وہ جمع ہوجائیں اور اسی طرح کی روایت حضرت عمر (رض) سے مروی ہے اور ابن مسعود (رض) سے بھی اس کی مثل مروی ہے روایت ذیل میں ہے۔
حاصل روایات : ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب و عشاء الگ الگ اذان و اقامت سے ادا کی جائیں گی۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلیل و جواب : ایک اذان اور ایک اقامت سے دونوں نمازوں کو ادا کیا جائے گا ان دونوں نمازوں میں سنن سے بھی فاصلہ نہ کیا جائے گا۔
فریق اوّل کا جواب : حضرت عمر (رض) کے فعل کی تاویل یہ ہے کہ آپ نے کھانے کا فاصلہ فرمایا اور لوگ اس کے لیے منتشر ہوگئے تھے تو ان کو جمع کرنے کے لیے اذان دوبارہ دلوائی اور اب بھی اگر لوگ حاجات کے لیے منتشر ہوجائیں تو ان کو جمع کرنے کے لیے اذان دی جاسکتی ہے۔ اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے فعل کی تاویل یہی ہے کہ انھوں نے عشاء کا کھانا مغرب کے بعد تناول فرمایا تو لوگوں کے منتشر ہونے کی وجہ سے اذان دلوائی گئی۔ اس لیے ان دونوں افعال سے ہر ایک نماز کے لیے اذان و اقامت کے ضروری ہونے پر استدلال درست نہیں ہے۔ جیسا کہ یہ روایت ہے۔