۳۸۷۸ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیْسَ الشَّافِعِیُّ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ (لَمْ یُنَادِ بَیْنَہُمَا‘ وَلَا عَلٰی إِثْرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلَّا بِإِقَامَۃٍ) .وَہٰکَذَا حِفْظِیْ عَنْ یُوْنُسَ‘ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ‘ غَیْرَ أَنِّیْ وَجَدْتُہٗ فِیْ کِتَابِیْ نَصَصْتُہٗ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ قَبْلَ ھٰذَا .
٣٨٧٨: عبداللہ بن نافع نے ابن ابی ذئب سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے البتہ اتنا فرق ہے۔ یہ کہا کہ ان کے درمیان اذان نہیں دی اور نہ ان میں سے کسی ایک کے بعد سوائے اقامت کے اور کچھ نہیں کہا۔
قول طحاوی (رح) :
یونس عن ابن وہب کی روایت میری یاد داشت میں اسی طرح ہے البتہ مخطوطہ میں پہلی روایت کی طرح ہے۔