hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3879

.

الطحاوي

3879
Al Tahawi
۳۸۷۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ بِجَمْعٍ‘ لَمْ یُنَادِ فِیْ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلَّا بِإِقَامَۃٍ‘ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا) .فَقَوْلُہٗ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ (وَلَمْ یُنَادِ فِیْ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلَّا بِإِقَامَۃٍ) فَذٰلِکَ مُحْتَمِلٌ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ بِذٰلِکَ الْاِقَامَۃَ الَّتِیْ أَقَامَہَا لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا .وَیَحْتَمِلُ‘ الْاِقَامَۃَ الَّتِیْ أَقَامَہَا لَہُمَا‘ غَیْرَ أَنَّ أَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا أَنْ نَحْمِلَ ذٰلِکَ عَلَی الْاِقَامَۃِ الَّتِیْ أَقَامَہَا‘ لِیَتَّفِقَ مَعْنٰی ذٰلِکَ‘ وَمَعْنٰی مَا رَوَیْنَاہُ قَبْلَ ذٰلِکَ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ‘ وَعَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ‘ مَا یُوَافِقُ مِنْ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٣٨٧٩: سالم نے اپنے والد سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کیا ان میں سے ہر ایک میں اذان نہیں دی فقط اقامت کہی۔ اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی۔ اس روایت میں ان کا یہ قول (ولم یناد فی کل واحدۃ منھما الا باقامۃ) کہ اقامت کے علاوہ ان میں سے کسی میں بھی اذان نہیں دی گئی ” اس میں دو احتمال ہیں نمبر ١ اس سے مراد وہ اقامت ہے جو ہر ایک کے لیے کہی گئی نمبر ٢ اس سے وہ اقامت مراد ہو جو دونوں کے لیے کہی گئی۔ البتہ ہمارے ہاں اس کا بہتر مطلب یہ ہے کہ اس سے وہ اقامت مراد لیجائے جس سے دونوں نمازوں کو قائم کیا گیا تاکہ اس روایت اور اس قبل منقولہ روایات کا معنی متضاد نہ ہو۔ ابن جبیر نے ابن عمر (رض) کی وساطت سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور ابو ایوب انصاری اور براء بن عازب (رض) سے اس کے موافق روایت نقل کی ہے۔
الم یناد فی کل واحدۃ منہما الا باقامۃ اس جملے میں دو احتمال ہیں نمبر ایک ہر ایک کے لیے اقامت کہی۔ نمبر دو دونوں کے لیے ایک اقامت کہی۔ ہم دوسرا معنی لیتے ہیں تاکہ سعید بن جبیر نے ابن عمر (رض) سے جو روایت نقل کی ہے اس کے ساتھ اس کی موافقت ہوجائے۔
اور ابو ایوب انصاری (رض) براء بن عازب (رض) سے اس کے موافق روایات وارد ہیں۔ روایت ابو ایوب انصاری (رض) ۔