hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3882

.

الطحاوي

3882
Al Tahawi
۳۸۸۲ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ صَلّٰی بِہَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ ‘ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَیْنِ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَیْنِ‘ وَھٰذَا خِلَافُ مَا رَوَیْ مَالِکُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .وَقَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْأَوَّلَ مِنَ الصَّلَاتَیْنِ اللَّتَیْنِ تُجْمَعَانِ بِعَرَفَۃَ‘ یُؤَذَّنُ لَہَا وَیُقَامُ‘ فَالنَّظْرُ عَلٰی ذٰلِکَ‘ أَنْ یَّکُوْنَ کَذٰلِکَ حُکْمُ الْأُوْلٰی مِنَ الصَّلَاتَیْنِ اللَّتَیْنِ تُجْمَعَانِ بِجَمْعٍ .
٣٨٨٢: جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انھوں نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مزدلفہ میں تشریف لائے تو وہاں مغرب و عشاء ایک اذان اور دو اقامت سے ادا کیں۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مغرب و عشاء ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ کے ساتھ ادا کیں اور یہ روایت مالک بن حارث نے جو ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے اس کے خلاف ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ دونوں نمازیں جن کو عرفہ میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک اذان اور اقامت کہی جاتی ہے۔ پس نظر وفکر کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں نمازیں جن کو مزدلفہ میں جمع کیا جاتا ہے۔ ان کا حکم پہلی نمازوں جیسا ہو۔
حاصل روایت : یہ روایت مالک بن حارث نے ابن عمر (رض) سے جو روایت کی ہے اس کے خلاف ہے اس میں ایک اذان اور دو اقامت کا تذکرہ ہے اور اس بات پر اتفاق ہے کہ عرفات میں جو نمازیں اکٹھی پڑھی جاتی ہیں ان کے لیے ایک اذان اور اقامت کہی جاتی ہے پس اسے سامنے رکھتے ہوئے مزدلفہ میں جمع کی جانے والی نمازوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔