hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3889

.

الطحاوي

3889
Al Tahawi
۳۸۸۹ : بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَانَ یُقَدِّمُ ضَعَفَۃَ أَہْلِہِ فَیَقِفُوْنَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَالْمُزْدَلِفَۃِ بِلَیْلٍ‘ فَیَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مَا بَدَا لَہُمْ‘ ثُمَّ یَدْفَعُوْنَ قَبْلَ أَنْ یَقِفَ الْاِمَامُ‘ وَقَبْلَ أَنْ یَدْفَعَ .فَمِنْہُمْ مَنْ یَقْدَمُ مِنًی لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ‘ وَمِنْہُمْ مِنْ یَقْدَمُ بَعْدَ ذٰلِکَ‘ فَإِذَا قَدِمُوْا رَمَوا الْجَمْرَۃَ .وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ : رَخَّصَ لِأُوْلَئِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُخْرَی‘ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَہُمْ فِیْ رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ حِیْنَئِذٍ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ الرُّخْصَۃُ الَّتِیْ کَانَ رَخَّصَہَا لَہُمْ ہِیَ الدَّفْعُ‘ مِنْ مُزْدَلِفَۃَ بِلَیْلٍ خَاصَّۃً .وَاحْتَجُّوْا أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٣٨٨٩: سالم نے عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ اپنے اہل میں عورتوں اور بچوں کو پہلے بھیج دیتے کہ وہ مشعر حرام و مزدلفہ میں وقوف کرتے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑی دیر ذکر کرتے پھر امام حج کے وقوف سے پہلے منیٰ کو روانہ ہوجاتے اور اس کے چلنے سے پہلے جاتے۔ ان میں بعض تو نماز فجر کے وقت منیٰ پہنچ جاتے اور بعض اس سے کچھ دیر بعد اور جب وہ آجاتے اسی وقت جمرہ کی رمی کرلیتے۔ اور ابن عمر (رض) فرماتے کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی ہے۔ قول اول کے قائلین کے خلاف دوسرے قول والوں کی دلیل یہ ہے۔ کہ روایت ابن عمر (رض) میں یہ بات قطعا مذکور نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جمرو عقبہ کی کنکریاں مارنے کی رخصت دی۔ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صرف مزدلفہ سے رات کے جانے کی اجازت دی ہو۔ انھوں نے اس سلسلہ میں ذیل کی روایت سے استدلال کیا ہے۔
بخاری فی الحج باب ٩٨‘ مسلم فی الحج مسلم فی الحج ٣٠٤‘ ترمذی فی الحج باب ٥٨‘ مسند احمد ١؍٣٢٦۔
u: اس میں رخصت کی وضاحت نہیں کہ اسے سے کیا مراد ہے منیٰ رات کو آنے یا رمی جمرہ عقبہ کی۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس سے مزدلفہ سے پہلے منیٰ آنے کی رخصت مراد ہو۔ (ویسے سیاق روایت سے رمی جمرہ ہی مراد معلوم ہوتی ہے)