۳۸۹۰ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سَالِمٍ‘ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ مَوْلَی (أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : أَیْ بُنَیَّ‘ ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ لَیْلَۃَ جَمْعٍ ؟ وَہِیَ تُصَلِّی‘ وَنَزَلَتْ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَۃِ .قَالَ : قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَۃً‘ ثُمَّ قَالَتْ : أَیْ بُنَیَّ‘ ہَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ أَوْ قَدْ غَابَ‘ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ : فَارْتَحِلُوْا اِذًا‘ فَارْتَحَلْنَا بِہَا حَتّٰی رَمَتَ الْجَمْرَۃَ‘ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِیْ مَنْزِلِہَا .فَقُلْتُ لَہَا : أَیْ ہَنَتَاہُ لَقَدْ غَلَّسْتِنَا قَالَتْ : کَلًّا یَا بُنَیَّ‘ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ) .فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ التَّغْلِیسَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الدَّفْعِ مِنْ مُزْدَلِفَۃَ‘ وَیَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ التَّغْلِیسَ فِی الرَّمْیِ فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَہُمْ فِی التَّغْلِیسِ لَمَّا سَأَلَہَا عَنِ التَّغْلِیسِ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِلَّذِیْنَ ذَہَبُوْا إِلٰی أَنَّ وَقْتَ رَمْیِہِمْ بَعْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ۔
٨٩٠: عبداللہ مولیٰ اسماء بنت ابی بکر (رض) روایت کرتے ہیں کہ اسماء فرماتیں اے بیٹے ! کیا مزدلفہ کی رات کا چاند غروب ہوگیا ہے وہ اس وقت نماز ادا فرما رہی تھیں وہ مزدلفہ میں اتریں۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا۔ نہیں۔ پھر انھوں نے کچھ دیر نماز پڑھی پھر کہنے لگیں۔ اے بیٹے۔ کیا چاند غروب ہوگیا یا قریب الغروب ہے میں نے کہا جی ہاں تو فرمانے لگیں۔ پھر تم کوچ کرو۔ ہم نے ان کے ساتھ کوچ کیا یہاں تک (منیٰ پہنچ کر) انھوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اے محترمہ ! تو نے بہت اندھیرے میں روانگی اختیار کی۔ وہ کہنے لگیں اے بیٹے ایسا نہیں ! جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کوچ کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس روایت میں یہ احتمال بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اندھیرے میں مزدلفہ سے واپسی کا حکم فرمایا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ کنکریاں مارنے کے وقت اندھیرا مراد ہو۔ اس لیے کہ حضرت اسماء (رض) نے ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ آپ نے ان کو اندھیرے میں کنکریاں مارنے کی اجازت دی ہے۔ اور ان لوگوں کی دلیل جن کے ہاں طلوع آفتاب کے بعد جمرہ کی رمی ہے۔ انھوں نے اس روایت ذیل سے استدلال کیا ہے۔
: تغلیس کے متعلق دو احتمال ہیں۔
نمبر 1: مزدلفہ سے روانگی میں تغلیس مراد ہو۔
نمبر 2: رمی میں تغلیس مراد ہو کہ جب انھوں نے سوال کیا تو آپ نے اجازت مرحمت فرما دی ہو۔ جب احتمال پیدا ہوا تو استدلال درست نہ رہا۔