۳۸۹۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : أَنَا الْحَجَّاجُ‘ عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ مِقْسَمٍ‘ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہٗ فِی الثَّقَلِ وَقَالَ : لَا تَرْمُوا الْجِمَارَ حَتّٰی تُصْبِحُوْا) .فَاحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ الْاِصْبَاحُ‘ ہُوَ طُلُوْعُ الشَّمْسِ‘ وَاحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ قَبْلَ ذٰلِکَ‘ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ .
٣٨٩٢: مقسم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سامان کے ساتھ بھیج دیا اور فرمایا صبح سے پہلے رمی جمار مت کرو۔ عین ممکن ہے کہ اس سے طلوع آفتاب مراد ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے پہلے کا وقت ہو ۔ پس ہم نے اس کے متعلق بحث و کرید کی۔
تخریج : بخاری فی الصید باب ٦٥‘ مسلم فی الحج ٣٠٣‘ ترمذی فی الحج باب ٥٨‘ مسند احمد ١‘ ٢٤٥؍٢٧٢‘ ٣٣٤؍٣٤٦۔
الاصباح اس میں دو احتمال ہیں طلوع آفتاب ‘ طلوع فجر کے بعد کا وقت۔ اب ان دونوں احتمالوں میں تعیین کی ضرورت ہے چنانچہ روایت ملاحظہ ہو۔