hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3905

.

الطحاوي

3905
Al Tahawi
۳۹۰۵ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِیْ سَلْمَۃَ‘ (عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَمَرَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ النَّحْرِ أَنْ تُوَافِیَ مَعَہُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہَا بِمَا أَمَرَہَا بِہٖ مِنْ ھٰذَا‘ یَوْمَ النَّحْرِ فَذٰلِکَ عَلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ فِی الْیَوْمِ الَّذِیْ بَعْدَ یَوْمِ النَّحْرِ وَھٰذَا خِلَافُ الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ وَقَدْ عَجَّلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مِنْ أَزْوَاجِہِ أُمَّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَکَانَ مُضِیُّہُمْ إِلَی " مِنًی " وَبِہَا صَلَّوْا صَلَاۃَ الصُّبْحِ‘ وَلَمْ یَتَوَجَّہُوْا‘ حِیْنَئِذٍ‘ إِلٰی مَکَّۃَ .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ‘ مَا
٣٩٠٥: عروہ نے زینب بنت ابی سلمہ عن امّ سلمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم نحر کو حکم فرمایا کہ وہ آپ کے ساتھ صبح کی نماز مکہ میں ادا کرے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امّ سلمہ (رض) کو جو حکم دیا سو دیا۔ یہ صبح کی نماز یوم نحر سے اگلے روز کی ہے اور یہ پہلی روایت کے خلاف ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امّ سلمہ (رض) سمیت اپنی ازواج مطہرات منی کی طرف جلدی جانے کا حکم فرمایا تھا اور وہاں ان تمام نے نماز فجر ادا فرمائی اور اسی وقت وہ مکہ کی طرف روانہ نہ ہوتے ۔ ذیل کی روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
تخریج : مسند احمد ٦؍٢٩١۔
تو ان دونوں روایات میں تضاد ہے کہ ایک میں فجر کی نماز دسویں صبح کو مکہ میں پڑھنے کا حکم ہے اور دوسری میں گیارہ تاریخ کی فجر مکہ مکرمہ میں پڑھنے کا حکم ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج کو امّ سلمہ (رض) سمیت منیٰ کی طرف جانے کا حکم فرمایا تھا اور ان تمام نے فجر کی نماز منیٰ میں ادا فرمائی ہے اور اسی وقت وہ مکہ کی طرف روانہ نہیں ہوئے۔ اس کی موید یہ روایتیں بھی ہیں۔