۳۹۳۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا کَانَتْ تَتْرُکُ التَّلْبِیَۃَ اِذَا رَاحَتْ إِلَی الْمَوْقِفِ .فَمِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُخْرٰی أَنَّ الْقَاسِمَ‘ لَمْ یُخْبِرْ فِیْ حَدِیْثِہِ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : إِنَّ التَّلْبِیَۃَ تَنْقَطِعُ قَبْلَ الْوُقُوْفِ بِعَرَفَۃَ .وَإِنَّمَا أَخْبَرَ عَنْ فِعْلِہَا فَقَالَ : کَانَتْ تَتْرُکُ التَّلْبِیَۃَ اِذَا رَاحَتْ إِلَی الْمَوْقِفِ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ کَانَتْ تَفْعَلُ ذٰلِکَ‘ لَا عَلٰی أَنَّ وَقْتَ التَّلْبِیَۃِ قَدِ انْقَطَعَ‘ وَلٰـکِنْ لِأَنَّہَا تَأْخُذُ فِیْمَا سِوَاہَا مِنَ الذِّکْرِ‘ مِنَ التَّکْبِیْرِ وَالتَّہْلِیْلِ‘ کَمَا لَہَا أَنْ تَفْعَلَ ذٰلِکَ قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَیْضًا‘ وَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عَلَی انْقِطَاعِ التَّلْبِیَۃِ‘ وَخُرُوْجِ وَقْتِہَا. وَکَذٰلِکَ مَا رَوَاہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ‘ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا‘ وَہُوَ مِثْلُ ھٰذَا .
٣٩٣٤: عبدالرحمن بن قاسم نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ جب مؤقف عرفات کی طرف روانہ ہوتیں تو تلبیہ چھوڑ دیتیں۔ ان کے خلاف دوسرے قول والوں کی دلیل یہ ہے کہ قاسم (رح) نے اپنی اس روایت میں یہ بات نہیں بتلائی کہ ” وقوف عرفات سے پہلے تلبیہ قطع کردیا جائے ۔ صرف حضرت صدیقہ (رض) کے فعل کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ جب حضرت صدیقہ (رض) مؤقف کی طرف جاتیں تو تلبیہ ترک کر دیتیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ یہ عمل اس لیے نہ کرتی ہوں کہ تلبیہ کا وقت ختم ہوگیا بلکہ اس کے علاوہ تکبیر و تہلیل اذکار کو اختیار کرتی تھیں جیسا کہ عرفہ کے دن سے پہلے آپ کرسکتی تھیں۔ پس یہ ترک تلبیہ اور اس کے وقت چلے جانے کا ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح ابن زبیر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے جو نقل کیا وہ بھی اس کیمثل ہے۔ ملاحظہ ہو۔
اس روایت میں تو ان کے قول کی نہیں بلکہ فعل کی خبر دی گئی اس لیے اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ وہ اسے وقتی طور پر کرتی ہوں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ وہ اسے اس لیے ترک کرتی تھیں کہ تلبیہ کا وقت ختم ہوگیا اور عبداللہ بن زبیر کی روایت جو عمر (رض) سے متعلق ہے اس کی یہی تاویل مناسب ہے کہ وہ وقتی طور پر اسی کو پڑھتے یہ نہیں کہ تلبیہ کا وقت جاتا رہا۔ واللہ اعلم۔