۳۹۳۵ : وَقَدْ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ‘ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ .فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَخَطَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ بِعَرَفَۃَ‘ فَلَمَّا لَمْ یَسْمَعْہُ یُلَبِّی‘ صَعِدَ إِلَیْہِ الْأَسْوَدُ فَقَالَ : مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تُلَبِّیَ ؟ فَقَالَ : أَوَ یُلَبِّی الرَّجُلُ اِذَا کَانَ فِیْ مِثْلِ مَقَامِک ھٰذَا .قَالَ الْأَسْوَدُ : نَعَمْ‘ سَمِعْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُلَبِّیْ فِیْ مِثْلِ مَقَامِکَ ھٰذَا‘ ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُلَبِّیْ حَتَّی صَدَرَ بَعِیْرُہُ عَنِ الْمَوْقِفِ‘ قَالَ : فَلَبَّی ابْنُ الزُّبَیْرِ .
٣٩٣٥: عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے اسود کے ساتھ حج کیا جب عرفہ کا دن آیا اور ابن زبیر (رض) نے عرفات میں خطبہ دیا جب اسود نے ان سے تلبیہ نہ سنا تو اسود ان کی طرف گئے اور کہنے لگے تلبیہ کیوں نہیں کہتے ؟ تو انھوں نے کہا کیا آدمی اس مقام پر بھی تلبیہ کہے گا ؟ تو اسود کہنے لگے جی ہاں۔ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو اس مقام پر تلبیہ کہتے سنا پھر وہ مؤقف سے لوٹنے تک تلبیہ کہتے رہتے۔ یہ بات سن کر ابن زبیر تلبیہ پڑھنے لگے۔