۳۹۹۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ وَسَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ‘ قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ‘ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ (أَنَّ الْأَعْرَابَ‘ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ عَنْ أَشْیَائَ ‘ ثُمَّ قَالُوْا : ہَلْ عَلَیْنَا حَرَجٌ فِیْ کَذَا ؟ وَہَلْ عَلَیْنَا حَرَجٌ فِیْ کَذَا ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ رَفَعَ الْحَرَجَ عَنْ عِبَادِہٖ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ أَخِیْہِ شَیْئًا مَظْلُوْمًا‘ فَذٰلِکَ الَّذِیْ حَرِجَ وَہَلَکَ) .أَفَلاَ تَرٰی أَنَّ السَّائِلِیْنَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَانُوْا أَعْرَابًا‘ لَا عِلْمَ لَہُمْ بِمَنَاسِکِ الْحَجِّ ؟ فَأَجَابَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہِ " لَا حَرَجَ " عَلَی الْاِبَاحَۃِ مِنْہُ لَہُمْ‘ التَّقْدِیْمُ فِیْ ذٰلِکَ وَالتَّأْخِیْرُ فِیْمَا قَدَّمُوْا مِنْ ذٰلِکَ وَأَخَّرُوْا .ثُمَّ قَالَ لَہُمْ مَا ذَکَرَ أَبُوْ سَعِیْدٍ فِیْ حَدِیْثِہٖ " وَتَعَلَّمُوْا مَنَاسِکَکُمْ " .ثُمَّ قَدْ جَائَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنٰی أَیْضًا .
٣٩٩٥: زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک (رض) سے نقل کی کہ بدو لوگوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کئے پھر کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی وجہ سے ہمیں کیا گناہ بھی ہوگا کیا اس میں گناہ ہوگا ؟ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تنگی کو اٹھا دیا (بھول کر ہونے والی غلطی کا گناہ) مگر وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی سے ظلم کے طور پر قرض لے اس میں گناہ اور ہلاکت ہے۔ کیا یہ تمہارے علم میں نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کرنے والے دیہاتی تھے ان کو حج کے احکام کا علم نہ تھا ۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو لا حرج کا جواب مرحمت فرمایا۔ کہ کچھ گناہ نہیں ۔ یعنی تمہاری تقدیم و تاخیر درست ہے۔ پھر ان کو وہ بات فرمائی جس کو حضرت ابو سعید (رض) نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے۔ فرمایا حج کے احکام سیکھو ۔ پھر حضرت ابن عباس (رض) سے بھی اس مفہوم کی روایت ہے۔
تخریج : ٣٩٩١ کی تخریج ملاحظہ کرلیں۔
ذرا غور فرمائیں : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے والے لوگ دیہاتی تھے جن کو مناسک حج کا پورا علم نہ تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لاحرج کے ساتھ جواب دیا کہ جو تقدیم و تاخیر کی وہ ان کے لیے معاف ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقول ابو سعید (رض) فرمایا تم اپنے مناسک حج کا علم حاصل کرو۔ ابن عباس (رض) کی روایت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے۔