۳۹۹۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ‘ عَنِ الْحَجَّاجِ‘ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ زُبَیْدٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ : (سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بَیْنَ الْجَمْرَتَیْنِ‘ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ‘ قَالَ لَا حَرَجَ وَعَنْ رَجُلٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ‘ قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ قَالَ عِبَادَ اللّٰہِ‘ وَضَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْحَرَجَ وَالضِّیْقَ‘ وَتَعَلَّمُوْا مَنَاسِکَکُمْ فَإِنَّہَا مِنْ دِیْنِکُمْ) .أَفَلاَ تَرٰی أَنَّہٗ أَمَرَہُمْ بِتَعَلُّمِ مَنَاسِکِہِمْ‘ لِأَنَّہُمْ کَانُوْا لَا یُحْسِنُوْنَہَا‘ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْحَرَجَ وَالضِّیْقَ الَّذِیْ رَفَعَہُ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘ ہُوَ لِجَہْلِہِمْ بِأَمْرِ مَنَاسِکِہِمْ‘ لَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ حَدِیْثِ أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ الَّذِیْ قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ھٰذَا الْبَابِ‘ مَا یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنٰی أَیْضًا .
٣٩٩٤: ابو زبید نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت سوال کیا گیا جب کہ آپ دونوں جمروں کے درمیان تھے کہ رمی سے پہلے حلق کرلیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کچھ گناہ نہیں۔ اور اس آدمی کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کچھ گناہ نہیں پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ کے بندو ! اللہ تعالیٰ نے تم سے تنگی اور گناہ ہٹایا ہے (جو کام بھول چوک سے ہوجائے) مگر اپنے حج کے احکام سیکھو وہ تمہارے دین کا حصہ ہیں۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے ان کو احکام حج سیکھنے کا حکم فرمایا کیونکہ وہ ان کو اچھی طرح ادا نہ کرتے تھے ۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جو تنگی اور گناہ اللہ تعالیٰ نے ان سے دور کی ہے وہ احکام حج سے ناواقفی کی وجہ سے تھا کسی اور وجہ سے نہیں اور حضرت اسامہ بن شریک (رض) کی مذکورۃ الصدر روایت اس پر دال ہے۔
تخریج : ابن ماجہ باب الطلب ١۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مناسک حج سیکھنے کی بھی تاکید فرما رہے ہیں کیونکہ وہ ان کو اچھی طرح نہ جانتے تھے اس سے یہ ثابت ہوا کہ حرج و تنگی جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی ہوئی وہ مناسک سے ناواقفیت کی وجہ سے تھی اس کی دیگر کوئی وجہ نہ تھی۔ اس سے پہلے اسامہ بن شریک (رض) کی روایت بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ روایت یہ ہے۔