۴۰۰۲ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مِخْوَلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ‘ عَنْ إِسْرَائِیْلَ‘ عَنْ مَجْزَأَۃَ بْنِ زَاہِرٍ‘ عَنْ (نَاجِیَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ الْأَسْلَمِیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ صُدَّ الْہَدْیُ‘ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ابْعَثْ مَعِیْ بِالْہَدْیِ فَلْأَنْحَرْہُ فِی الْحَرَمِ .قَالَ وَکَیْفَ تَأْخُذُ بِہٖ؟ قُلْت آخُذُ بِہٖ فِیْ أَوْدِیَۃٍ‘ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلَیَّ فِیْہَا فَبَعَثَہُ مَعِیْ حَتّٰی نَحَرْتُہٗ فِی الْحَرَمِ) .فَقَدْ دَلَّ ھٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ ہَدْیَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ‘ نُحِرَ فِی الْحَرَمِ. وَقَالَ آخَرُوْنَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ‘ وَہُوَ یَقْدِرُ عَلٰی دُخُوْلِ الْحَرَمِ. قَالُوْا : وَلَمْ یَکُنْ صُدَّ إِلَّا عَنِ الْبَیْتِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٤٠٠٢ مجزاۃ بن زاہر بیان کرتے ہیں کہ ناجیہ بن جندب اسلمی (رض) نے (اپنے والد سے) روایت نقل کی ہے کہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کے ہدایا کو روک لیا گیا تھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ ہدایا روانہ کردیں میں ان کو حرم میں ضرور نحر کروں گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ کس طرح کرو گے میں نے کہا میں ان کو ایسی وادیوں میں سے لے جاؤں گا جن میں وہ مجھ پر قابو نہ پاسکیں گے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدایا ان کے ساتھ بھیج دیئے انھوں نے لے جا کر حرم میں ذبح کردیئے۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھدی حرم میں ذبح کی گئی ۔ بعض دیگر حضرات کا کہنا ہے کہ آپ حدیبیہ میں تھے اور حرم میں داخلے کی قدرت تھی اور آپ کو رکاوٹ تو کعبہ اللہ سے تھی ۔ ان کا استدلال اس طرح ہے ذیل میں ملاحظہ ہو۔
حاصل روایت : اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایا کو حرم میں لے جا کر ذبح کرنا ضروری ہے ورنہ ناجیہ بن جندب کے لے جانے کی چنداں ضرورت نہ تھی معلوم ہوگیا کہ آپ کے ہدایا حرم میں ذبح کئے گئے۔
(روایت میں عن ابیہ کا لفظ یا مجزاۃ کے بعد ہے یا وہم راوی سے زائد لکھا گیا ہے۔ ناجیہ خود صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں)
دوسرا جواب : جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ میں حدود حرم سے متصل تھے اور آپ کو تو بیت اللہ میں داخل ہونے سے روکا گیا تھا حدود حرم سے نہیں جیسا کہ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے ملاحظہ ہو۔